’بچے پیدا نہ کریں، زندگی تکالیف سے بھری ہے‘

’بچے پیدا نہ کریں، زندگی تکالیف سے بھری ہے‘

December 31, 2017 - 06:53
Posted in:

ڈیوڈ بیناٹر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ’دنیا میں مایوس ترین فلسفی ہیں‘ کیونکہ وہ اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ زندگی اتنی بری ہے کہ وہ گزارنے کے قابل نہیں۔جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن کے ڈپارٹمنٹ آف فلاسفی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیناٹر اپنی کتاب ’ Better Never To Have Been‘ میں لکھتے ہیں کہ پیدا ہونا انتہائی شدید اور خوفناک بدقسمتی ہے۔اسی لیے 51 سالہ بیناٹر کا کہنا ہے کہ سب سے اچھا کام جو انسان کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیدائش کے عمل کو روک کر اس کرہ ارض سے انسانیت کا مکمل خاتمہ کر دے۔دنیا بھر کی کم عمر مائیںماؤں کی جان بچانے والی ویڈیو لِنک کِٹبی بی سی منڈو نے بیناٹر سے بات کی اور ’زچگی مخالف‘ فلسفے کے بارے میں جاننے کی کوشش کی اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس سوچ کو اپنی زندگی پر لاگو کرتے ہیں۔

آپ نے زچگی کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کب کیا؟میں اس بارے میں کافی عرصے سے سوچ رہا تھا، جس کی وجہ سے ان سالوں کے دوران میں نے اس خیال کو جنم دیا۔بنیادی عقیدہ میرے لیے بالکل ہی واضح ہے، جبکہ میں نہیں جانتا کہ یہ اوروں کے لیے بھی ہے یا نہیں۔آپ کو زندہ ہونے پر افسوس ہے؟میں ذاتی سوالات کے جواب دینا پسند نہیں کرتا۔ میں تصورات اور خیالات کے بارے میں بات کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔کیا آپ اس دنیا میں آنے کے لیے اپنے والدین کو الزام دیتے ہیں؟شاید آپ کو یہ جان کر دلچسپی ہوگی اگر آپ میری کتاب کے آغاز میں دیکھیں کہ میں نے اسے کس سے منسوب کی ہے۔جی میں نے اسے پڑھا ہے اس پر لکھا ہے: ’میرے والدین کے نام اس کے بجائے کہ انھوں نے مجھے زندگی دی۔‘تو پھر آپ پہلے ہی سے جانتے ہیں۔ میں اس میں مزید کچھ اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ایک آخری سوال: آپ کے بچے ہیں؟یہ ایک اور ذاتی سوال ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}