’ایسا نہ ہو ان حالات میں آنا پڑے جوعزت دارانہ نہ ہوں‘

’ایسا نہ ہو ان حالات میں آنا پڑے جوعزت دارانہ نہ ہوں‘

October 02, 2018 - 12:05
Posted in:

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نےسابق صدرپرویز مشرف کی واپسی کے معاملے پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویزمشرف باہربیٹھےرہیں،ہم ریڈوارنٹ ایشوکرتےرہیں گے،ایسا نہ ہوان حالات میں آنا پڑے جوعزت دارانہ طریقہ نہ ہو۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے قومی مفاہمتی آرڈیننس ( این آر او) کیس میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی واپسی کے معاملے پر سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے پرویز مشرف کے وکیل کو حکم دیا کہ وہ ان کی وطن واپسی سے متعلق 11 اکتوبر تک جواب جمع کرائیں۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ 'سپریم کورٹ میں این آر او کیس میں پیشی سے قبل پرویز مشرف کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے اور وہ جس ایئر پورٹ پر اتریں انہیں رینجرز کی سیکیورٹی فراہم کی جائے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ نہیں ہوسکتاپرویز مشرف اعلیٰ عدلیہ کے بلانے پر نہ آئیں، ان کی کمردردکےمسائل ہیں توعلاج کرائیں گے۔پرویزمشرف کے وکیل اخترشاہ نے کہا کہ 27 ستمبرکومیں نےپرویزمشرف سےبات کی ہے،پرویز مشرف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئیں گے،پرویزمشرف کوطبعی اورسیکیورٹی کےایشوزہیں،پرویز مشرف کو سنجیدہ نوعیت کی بیماری ہے۔انہوں نے کہا کہ لال مسجد کیس میں پرویزمشرف کوسیکیورٹی کےلیےکہاگیاہے،اس کیس میں پرویزمشرف پر کوئی الزام نہیں، پرویز مشرف پر کوئی فرد جرم نہیں لگائی گئی۔چیف جسٹس نےوکیل سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہمیں نےآپ سےکہا تھاکوئی پرویزمشرف کوگرفتارنہیں کرےگا،پرویز مشرف خصوصی عدالت میں بغاوت کے مقدمے میں بیان ریکارڈ کرائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے بھی چُک پڑی ہوئی ہے،چُک کے علاج کا بہترین انتظام ہم نے کر رکھا ہے،ایک پرویز مشرف ہیں اور ایک ڈار ہیں چھپ کر بیٹھے ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پرویز مشرف جہاں اتریں گےرینجرزکی سیکیورٹی مہیاکریں گے،پرویز مشرف کی حفاظتی ضمانت دے رہے ہیں،ان کا گھر صاف کرائیں گے،ان کے دوست بخاری صاحب صفائی کا معائنہ کریں گے۔عدالت نے سابق صدر کو حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}