’ایران امریکہ کی کسی دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا‘

’ایران امریکہ کی کسی دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا‘

May 22, 2019 - 00:46
Posted in:

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ایران کی جانب یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کی قیادت چاہے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے سازگار نہیں اور ایران کے پاس واحد راستہ مزاحمت ہے۔ حسن روحانی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے ’تمام تر سیاسی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایرن کے عوام کسی دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گے۔‘یہ بھی پڑھیےکیا امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کرنے جا رہا ہے؟جواد ظریف: ’نسل کشی کے طعنوں‘ سے ایران ختم نہیں ہوگاپومپیو: امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ہےایران کے صدر حسن روحانی نے یہ بیان شمال مغربی صوبے آذربائیجان میں ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب کے دوران دیا۔ انھوں نے کہا ’انھیں یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ایران کی شان و شوکت کو ختم کر سکتے ہیں لیکن مشکلات اور پابندیوں کے دنوں میں نئے منصوبوں کا افتتاح، ہماری جانب سے وائٹ ہاؤس کو پرعزم جواب ہے۔‘ایک اور جگہ اپنے بیان میں حسن روحانی نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ دنیا اور حتیٰ کے امریکی حکام بھی صدر ٹرمپ کے اقدامات کی حمایت نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران نے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کو معطل کیا۔ ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی۔ جس کے بعد امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں مزید سخت کر دیں۔ یہ یورینیئم جوہری ری ایکٹر کا ایندھن اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ برس ایران کے اس یادگارجوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہو گئے تھے جس پر امریکہ اور دیگر ممالک نے سنہ 2015 میں اتفاق رائے کیا تھا۔ناقدین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ملے جلے پیغامات بھیجنے کا الزام عائد کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے تین امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}