’انڈیا کا کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی کردار خطرے میں ہے‘

’انڈیا کا کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی کردار خطرے میں ہے‘

April 28, 2018 - 13:07
Posted in:

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی ادارے یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیا میں مذہبی آزادی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔یہ رپورٹ اس لیے اہم ہے کیونکہ یو ایس سی آئی آر ایف ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کا قیام سنہ 1998 میں بین الاقوامی مذاہب کی آزادی کے ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا۔ اس تنظیم کا کام امریکی حکومت کو مشورہ دینا ہے۔ادارے کی سنہ 2018 کی رپورٹ میں انڈیا میں مذہبی آزادی کے تعلق سے نریندر مودی حکومت کے رویے پر کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کا کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی کردار خطرے میں ہے کیونکہ وہاں ایک مذہب کی بنیاد پر جارحانہ طریقے سے قومی شناخت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ بھی پڑھیے٭ 'آج انڈیا میں ہر سال 500 فسادات ہوتے ہیں'٭ مردہ گائے پر فساد، مسلمان کے مکان کو آگ لگا دیاس رپورٹ میں انڈیا کی دس ریاستوں اتر پردیش، آندھرا پردیش، اڑیسہ، بہار، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات اور کرناٹک کا ذکر کیا گيا ہے جہاں مذہبی آزادی کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ انڈیا کی باقی ریاستوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں مذہبی اقلیتیں زد پر نہیں ہیں۔یو ایس سی آئی آر ایف نے رواں سال 12 ممالک کو دوسرے درجے میں رکھا ہے جنھیں 'كنٹريز آف پرٹیكولر كنسرن' یا سی پی سی کہا گیا ہے۔ یہ ایسے ممالک ہیں جہاں مذہبی آزادی کے تعلق سے حالات تشویش ناک ہیں۔

اس رپورٹ میں گائے کو ذبح کرنے کے شبہے پر تشدد، مسیحی مبلغین پر دباؤ اور ان کے خلاف تشدد، غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے این جی او کے کام کو روکنا اور تبدیلی مذہب مخالف قانون پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔رپورٹ میں انڈیا کی عدلیہ کی تعریف بھی کی گئی ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے کہا ہے کہ انڈیا میں ایک آزاد عدلیہ ہے جس نے بہت سے معاملات میں بامعنی مداخلت کی ہے۔ اس ضمن میں مثال کے طور پر ہادیہ کے قبول اسلام کا ذکر ہے جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا 'ہر بالغ شہری کو اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔'یہ بھی پڑھیے٭ ’انڈیا میں مذہبی زبردستی کب ختم ہو گی‘٭ مذہبی رہنما کو جیل پہنچانے والی لیڈی پولیس افسر٭ کیا انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے؟اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو دس تجاویز دی گئی ہیں جن میں انڈیا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ان معاملات کو اٹھانا اور انڈیا میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی حالت میں بہتری لانے کے لیے دباؤ ڈالنا وغیرہ شامل ہے۔اس سے قبل انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ’انڈین حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف سنہ 2017 میں ہونے والے حملوں کی قابل اعتماد تفتیش کرانے یا انھیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}