’اصغر خان کیس بند کریں‘: ایف آئی اے کی استدعا مسترد

’اصغر خان کیس بند کریں‘: ایف آئی اے کی استدعا مسترد

April 22, 2019 - 15:50
Posted in:

سپریم کورٹ نے ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان عمل درآمد کیس کو بند کرنے سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی استدعا مسترد کردی ہے۔عدالت نے ایف آئی اے اور وزارت دفاع کو حکم دیا ہے کہ چار ہفتوں میں اس کیس میں جتنے بھی گواہان ہیں ان کے بیان حلفی اور بیان کی نقل بھی عدالت میں جمع کروائی جائے۔جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کیس پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔اسی بارے میںاصغر خان کیس کے فیصلے میں کیا ہے؟’اصغر خان کیس آئین شکنی کا نہیں بدعنوانی کا مقدمہ ہے‘نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایف آئی اے کے حکام کی طرف سے استدعا کی گئی کہ اس مقدمے میں جتنے بھی گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں ان بیانات کی روشنی میں یہ مقدمہ آگے نہیں بڑھ رہا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں جو ریکارڈ پیش کیا گیا ہے اس میں گواہوں کے بیانات لف نہیں ہیں بلکہ ان بیانات کی سمری ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ جن گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں کیا اُنھوں نے ان افراد کے نام لیے جنھوں نے مبینہ طورپر یہ رقم لی تھی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان بیانات کی روشنی میں مبینہ طور پر جن افراد نے فوج کے خفیہ اداروں سے رقم لی ہے وہ اس الزام سے انکاری ہیں۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس جب بھی کسی قاتل یا چور کو گرفتار کرتی ہے تو پہلے وہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سچ کو سامنے لانا تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک فریق پیسے لینے سے انکاری ہو تو کیا اس کیس کو بند کردیا جائے۔بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی تفتیش میں جو بیان حلفی جمع کروائے گئے ہیں کیا وہ جھوٹے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ بیان حلفی سچے ہیں یا جھوٹے اس کا تجزیہ کیا جائے گا۔جسٹس عظمت سعید نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا انکوائری میں یہ سوال کیا گیا کہ رقم کس کے ذریعے تقسیم کی گئی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مذکورہ سوال انکوائری میں شامل نہیں تھا۔بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اصغر خان کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس پر ہر صورت میں عمل درآمد کروائیں گے۔ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں اس مقدمے کے مرکزی گواہ برگیڈئیر حامد سعید کے بیان کا بھی حوالہ دیا ہے تاہم یہ معاملہ بیان سے آگے نہیں بڑھ سکا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کو آگے بڑھانے کے لیے خاطر خواہ ثبوت بھی نہیں مل رہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مناسب ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے اس مقدمے کو ٹرائل کورٹ میں چلانا ممکن نہیں ہے۔حامد سعید نے سپریم کورٹ میں بیان دیا تھا کہ وہ فوج کے ان افسران میں شامل تھے جنہوں نے متعدد سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی تھیں۔ بریگیڈئیر ریٹائرڈ حامد سعید کے علاوہ کوئی دوسرا فوجی افسر ابھی تک سامنے نہیں آیا جس کو سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہو۔

سماعت کے دوران وزارت دفاع کی طرف سے بھی ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس کے مطابق معاملے پر وزرات دفاع کی جانب سے کورٹ آف انکوائری بنائی گئی جس نے تمام شواہد اور سویلین افراد کے بیانات کا جائزہ لیا۔رپورٹ کے مطابق کورٹ آف انکوائری نے 6 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں جبکہ مزید گواہوں کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کی جاری ہے۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام کاوشیں کی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ سنہ 90 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا تھا اور اس اتحاد میں موجود اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مبینہ طور پر لاکھوں روپے تقسیم کیے گئے تھے۔ اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی دعویٰ کرتے ہیں کہ اُنھوں نے سیاست دانوں میں یہ رقم اس وقت کے فوج کے سربراہ مرزا اسلم بیگ کے حکم پر تقسیم کی تھی۔جن سیاست دانوں نے مبینہ طور پر یہ رقوم وصول کیں ان میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی شامل ہیں جبکہ اس فہرست میں شامل متعدد سیاست دان اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}