’اتنا اہم تجارتی معاہدہ پہلے کبھی نہیں ہوا ہے‘

’اتنا اہم تجارتی معاہدہ پہلے کبھی نہیں ہوا ہے‘

October 02, 2018 - 03:29
Posted in:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ کیے جانے والے نئے تجارتی معاہدے کو ’اہم ترین‘ قرار دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا معاہدہ (یو ایس ایم سی اے) نیفٹا کی جگہ لے گا اور اس سے شمالی امریکہ میں ہزاروں ملازمتیں واپس آئیں گی۔ وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ نئے معاہدے نے ان کی تجارتی محصولات کے بارے میں دی جانے والی دھمکیاں صحیح ثابت کر دی ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق تین ممالک کے درمیان ہونے والا نیا تجارتی معاہدہ 1.2 ٹریلین ڈالر کی تجارت کور کرے گا اور یہ ’واقعی تاریخی‘ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ یہ معاہدہ ’امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ ہے۔‘اس بارے میں مزید پڑھیے’ٹرمپ نے یورپ اور امریکہ کے باہمی اعتماد کو تباہ کر دیا‘جی سیون وزرا کی امریکی محصولات پر تنقید’محصولات عائد کر کے امریکہ خطرناک کھیل کھیل رہا ہے‘’سٹیل پر ڈیوٹی عائد کرنا امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ‘امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ کے نتائج کیا ہوں گے؟امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ نیا تجارتی معاہدہ نیفٹا میں پائی جانے والی ’خامیوں اور غلطیوں‘ کو حل کرے گا جس نے سنہ 1994 کے بعد سے تینوں ممالک کے درمیان تجارت کو کنٹرول کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کی وجہ سے امریکہ میں ’سینکڑوں ہزاروں ملازمتیں واپس آ جائیں گی۔‘ڈونلڈ ٹرمپ نے ’امریکہ پہلے‘ کی پالیسی اپنائی ہے اور چین کے خلاف تجارتی جنگ شروع کرنے کے علاوہ میکسیکو اور کینیڈا سے آنے والی سٹیل اور ایلومینیم کی درآمد محصولات عائد کیں۔ٹرمپ نے کہا محصولات کے بغیر ہم معاہدے کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے۔‘دوسری جانب کینیڈا کے وزیر اعظم جنس ٹروڈو نے تجارتی معاہدہ کو اپنے ملک کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں اور کچھ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مشکل تھے۔‘ ہم نے کبھی یقین نہیں کیا کہ یہ آسان ہو گا اور یہ آسان نہیں تھا لیکن آج کا دن کینیڈا کے لیے اچھا دن ہے۔‘چین کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت کے معاملے پر ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ ایسا کرنے میں بہت جلد ہو گا۔انھوں نے کہا ’چین مذاکرات کے لیے بہت بے معنی ہے ... ہم اب مذاکرات نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ وہ تیار نہیں ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس مارچ میں سٹیل کی درآمد پر 25 فیصد اور ایلومینم کی درآمد پر 10 فیصد ڈیوٹی لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کی بڑے پیمانے پر بین الاقوامی مذمت کی گئی تھی۔صدر ٹرمپ نے صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد 1962 کے ایک قانون کے تحت سٹیل کی صنعت کے بارے میں تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔یہ قانون صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کو خطرے کے پیش نظر کسی قسم کی درآمد کو روکنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}