’آخری رسومات کے راستے میں بچے کی لاش زندہ نکلی‘

’آخری رسومات کے راستے میں بچے کی لاش زندہ نکلی‘

December 02, 2017 - 05:43
Posted in:

انڈیا کے دارالحکومت دلی میں ایک نوزائیدہ بچے کو اس کی آخری رسومات کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب یہ معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے اور ڈاکٹروں نے اسے غلطی سے مردہ قرار دیا تھا۔ میکس نامی نجی ہسپتال میں اس بچے کا جڑواں بچہ بھی چند گھنٹے قبل ہی مردہ پیدا ہوا تھا۔ بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی توجہ پلاسٹک کے لفافے پر تھی جس میں طبی عملے نے بچے کی لاش انھیں دی تھی، انھیں احساس ہوا کہ اندر بچہ حرکت کر رہا ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے بہت سے لوگوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور نجی طبی سہولیات کے بارے میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ڈینگی کا علاج، ہسپتال کا بل 25 ہزار ڈالر'خواتین کے لیے فٹ رہنے کے انوکھے مشورے'مانع حمل پر بات کرنے کی ایک دشوار لڑائیدلی کے وزیراعلیٰ کیجریوال نے بھی اس واقعے کے بارے میں ٹوئیٹ کیا ہے اور معاملے کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔ ریاستی وزیرِ صحت نے بھی اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔

@ArvindKejriwal کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

Enquiry ordered. Strongest action wud be taken if found guilty https://t.co/prSLonNlkJ Arvind Kejriwal (@ArvindKejriwal) 1 دسمبر، 2017

@ArvindKejriwal کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

@SatyendarJain کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

Sought a report on shocking criminal negligence byMaxHospitalShalimar Bagh & directed Dept to conduct a inquiry into this unacceptable act Satyendar Jain (@SatyendarJain) 1 دسمبر، 2017

@SatyendarJain کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

بچے کے دادا کا کہنا تھا کہ آخری رسومات کے راستے میں جیسے ہی انھیں احساس ہوا کہ بچہ زندہ ہے تو وہ فوری طور پر قریبی ہسپتال لے گئے۔ میکس ہسپتال کی جانب سے میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے انتہائی پریشان ہیں اور متعلقہ ڈاکٹر کو انکوائری کے تعطیل کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ادھر مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ شلی پولیس اس واقعے کے حوالے سے قانونی ماہرین سے بھی رابطہ کر رہی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}