ہندوؤں کا دل جیتنے کے لیے ہولی کھیلنے والے انگریز افسر

ہندوؤں کا دل جیتنے کے لیے ہولی کھیلنے والے انگریز افسر

March 20, 2019 - 19:53
Posted in:

رنگوں کا تہوار ہولی صدیوں سے منایا جا رہا ہے۔ جب مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہو رہی تھی اور ملک پر برطانوی حکومت کا دائرہ بڑھ رہا تھا تب انگریز صاحب بہادر اپنی رعایا کے ساتھ ہولی کی محفلیں سجایا کرتے تھے۔’ہولی ہے تو کیا آپ زبردستی کریں گے‘پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہولی کا تہوارکیا مسلمانوں کو ہولی نہیں کھیلنی چاہیے؟

دلی میں انگریز حکومت کے اعلیٰ افسرسر تھامس میٹکاف بھی ہولی کھیلتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سر تھامس میٹکاف کو رنگوں کے اس تہوار سے پرہیز نہیں تھا بس انکا حکم اتنا تھا کہ گھر کے اندر رنگوں سے نہ کھیلا جائے۔ انکی حویلی کے مہمان خانے میں انکے ہیرو نیپولین کا مجسمہ تھا اور وہ اسے خراب نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔نانی دادیوں کے قصے بھی بتاتے ہیں کہ ہندوؤں کا دل جیتنے کے لیے تھامس میٹکاف ہولی کھیلا کرتے تھے۔ غالباً وہ ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ مغل روایات کے تئیں اپنے جھکاؤ اور ہندوؤں کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں۔

کیسے مناتے تھے ہولیشمالی دلی میں واقع سر تھامس کی حویلی راجاؤں، نوابوں، زمینداروں اور سیٹھوں سے آباد رہتی تھی۔ چاندنی چوک پر رہنے والے رئیس اکثر انکے گھر لال گلال لیکر آیا کرتے تھے۔ ہولی کے دن لال صاحب یعنی سر میٹکاف کرتا پاجامہ پہنا کرتے تھے اور ہولی کے بعد اپنے کپڑے ہندو نوکروں کو دیدیا کرتے تھے اور یہ نوکر پوری گرمیاں وہ کپڑے پہنا کرتے تھے۔ اس بات کی تصدیق اس دور کے قصے کہانیوں سے بھی ہوتی ہے۔

اسی طرح آگرہ کے ہیلِنگر ہال میں بھی انگریز ہولی کھیلا کرتے تھے۔ اس دور میں دلی سے بہت سے فرنگی یہاں مہینے میں ایک بار کاکٹیل یا ڈانس کی محفلوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔اس کے علاوہ یہاں ہولی اور دیوالی کے جشن بھی ہوا کرتے تھے۔ لیکن 1857 کی بغاوت کے بعد میٹکاف ہاؤس کی فضا بدل گئی کیونکہ اس دوران خانہ بدوش گجروں نے میٹکاف ہاؤس کو جم کر لوٹا اور اسے تہس نہس کر دیا تھا۔گجروں کو لگتا تھا کہ میٹکاف ہاؤس کو انکے آباؤ اجداد کے زمین پر تعمیر کیا گیا تھا اور وہ زمین ان سے معمولی قیمت پر ہڑپ کی گئی تھی۔اس وقت تک میٹکاف گذر چکے تھے کہا جاتا ہے کہ انہیں بہادر شاہ ظفر کی سب سے پیاری بیوی زینت محل نے زہر دیا تھا۔ سر تھامس کی جگہ برطانوی ریزیڈنٹ بن کر آنے والے تھیو فلِس میٹکاف کو 1857 کی بغاوت کے دوران بہت بےعزتی جھیلنی پڑی تھی۔ انہیں نیم برہنہ کر کے دلی کی سڑکوں پر اس وقت تک دوڑایا گیا تھا جب تک علاقہ پہاڑ گنج کے تھانیدار کو ان پر ترس نہیں آیا جس نے اپنا گھوڑا دیکر انہیں وہاں سے بھاگنے میں مدد کی تھی۔اس کے بعد سے تھیو فلِس میٹکاف دلی والوں کے جانی دشمن بن گئے تھے ایسے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ہولی جیسا تہوار منائیں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}