ہانگ کانگ: چین سے متعلق متنازع بل پر تاریخی احتجاج

ہانگ کانگ: چین سے متعلق متنازع بل پر تاریخی احتجاج

June 17, 2019 - 01:15
Posted in:

ہانگ کانگ میں لاکھوں افراد نے چین کو ملزمان کی حوالگی کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ تقریبا 20 لاکھ افراد نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو سنہ 1989 کے بعد یہ سب سے بڑا احتجاج ہو سکتا ہے۔ احتجاج کے راستے میں تین لاکھ 38 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔مجوزہ قانون کے مطابق چین ہانگ کانگ سے سنگین جرائم میں ملوث مطلوب ملزمان کو اس کے حوالے کرنے کی درخواست کر سکتا ہے اور ان کے خلاف چین میں ہی مقدمات چلائے جا سکیں گے۔ ناقدین کے بقول یہ قانون سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے میں چین کی مدد کر سکتا ہے۔ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام کی جانب سے بل کی معطلی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاج میں حصہ لیا۔کیری لام نے اتوار کے روز بل پیش کرنے پر معذرت کر لی تھی۔ بہت سے مظاہرین جنھیں ہانگ کانگ پر چین کے اثر ورسوخ بڑھنے کا خدشہ ہے، وہ کیری لام سے استعفی بھی مانگ رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس قانون کو صرف معطل نہیں بلکہ ختم کیا جائے۔یہ بھی پڑھیے حوالگی قانون کے خلاف ہانگ کانگ میں مظاہرے تیانانمن سکوائر: ہانگ کانگ میں شمعوں کا سیلاب ’تیانانمن سکوائر پر مظاہرین کے خلاف کارروائی درست تھی‘

ملزمان کی حوالگی کی تجویز اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ سال فروری میں ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے تائیوان میں مبینہ طور پر اپنی حاملہ گرل فرینڈ کو قتل کر دیا تھا۔ گزشتہ سال وہ شخص تائیوان سے فرار ہو کر ہانگ کانگ آ گیا تھا۔ناقدین کے مطابق ملزمان کی حوالگی کے قانون اور ہانگ کانگ کے شہریوں کو چین کے حوالے کرنے سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔بہت سے لوگوں کا خدشہ ہے کہ اس قانون سے برطانیہ کی سابق نو آبادی کو چین کے انتہائی ناقص انصاف کے نظام کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کی وجہ سے ہانگ کانگ کی عدلیہ کی آزادی مزید متاثر ہو گی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}