گینگ ریپ میں ناکامی پر ماں بیٹی کے سر مونڈ دیے گئے

گینگ ریپ میں ناکامی پر ماں بیٹی کے سر مونڈ دیے گئے

June 28, 2019 - 14:23
Posted in:

انڈیا کی ریاست بہار میں پولیس نے جنسی زیادتی میں ناکامی کے بعد دو خواتین کے سر مونڈنے کے واقعے میں ملوث دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق ان افراد نے خواتین کی جانب سے زیادتی کی کوشش کے دوران ’مزاحمت‘ کرنے پر بطورِ سزا ان کے بال مونڈ دیے۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان اس گروپ کا حصہ تھے جنھوں نے گھر میں گھس کر وہاں پر موجود ماں اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔خواتین کی جانب سے مزاحمت کرنے پر، ان افراد نے انھیں مارا پیٹا اور سر کے بال کاٹ کر ان کو گاؤں میں چکر لگوائے۔ یہ بھی پڑھیےانڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعاتانڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاسانڈیا: کیا بچوں کے خلاف جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں؟پولیس کے مطابق وہ اس جرم میں ملوث دیگر پانچ افراد کو تلاش کر رہی ہے۔ لڑکی کی ماں نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’ہمیں بے دردی کے ساتھ ڈنڈوں سے مارا گیا، میرے پورے جسم پر زخم ہیں اور میری بیٹی کو بھی متعدد چوٹیں آئی ہیں۔‘خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ پورے گاؤں کے سامنے ان کے سروں پر سے بال مونڈے گئے۔ ایک پولیس افسر نے مقامی میڈیا کو بتایا ’کچھ افراد نے متاثرہ خواتین کے گھر میں گھس کر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی‘ جبکہ لڑکی کی ماں نے انھیں روکنے میں اپنی بیٹی کی مدد کی۔ ریاست بہار کے خواتین کے حقوق سے متعلق کمیشن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف مزید کارروائی عمل میں لائی جائی گی۔ یہ بہار میں پیش آنے والا ایسا پہلا واقعہ نہیں ہے۔اپریل میں گینگ ریپ کی مزاحمت کرنے پر ایک لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا تھا۔ انڈیا میں سنہ 2012 میں نیو دہلی میں بس میں ہونے والے ایک اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد عوام میں جنسی تشدد کے خلاف غم و غصہ بڑھا ہے۔ سنہ 2018 میں بچوں پر ہونے والے ایسے متعدد حملوں کے بعد سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی۔ تاہم اس کے باوجود پورے ملک سے خواتین کے خلاف جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}