گولی سے اپنا ہی نوزائیدہ بچہ کھونے والی خاتون ’قصوروار‘

گولی سے اپنا ہی نوزائیدہ بچہ کھونے والی خاتون ’قصوروار‘

June 28, 2019 - 18:34
Posted in:

امریکی ریاست الاباما میں ایک 27 سالہ خاتون کو فائرنگ کے ایک واقعے میں اپنا ہی نوزائیدہ بچہ کھو دینے پر قتل کے الزام میں ملزم قرار دیا گیا ہے یہ جانتے ہوئے کہ گولی انھوں نے نہیں چلائی تھی۔مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے بدھ کو مارشے جونس کو یہ کہہ کر گرفتار کیا کہ انھوں نے گذشتہ دسمبر ایک خاتون سے لڑائی شروع کی جس کے بعد اس خاتون نے ان پر گولی چلائی۔ گرینڈ جیوری گولی چلانے والی خاتون پر فردِ جرم عائد نہیں کر سکی تھی جس کے بعد انھیں قتل کے الزام سے بری کردیا گیا تھا۔بچوں کی پیدائش سے متعلق خواتین کے حقِ خود ارادیت کا دفاع کرنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ریاست الاباما میں اسقاط حمل یا ابارشن کے سخت قوانین دوسرے مقدمات پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔یہ بھی پڑھیےٹرمپ کی آمد پر امریکہ میں خواتین کی ملین مارچوہ ملک جہاں اسقاط حمل کی شرح پیدائش سے بھی زیادہامریکہ میں اسقاط حمل ایک اہم سیاسی مسئلہ

@aldotcom

@aldotcom

واقعے میں قصور کس کا تھا؟اے ایل ڈاٹ کام کے مطابق 4 دسمبر کو مارشے جونس حمل کے پانچوے مہینے میں تھیں جب ڈالر جنرل سٹور کے باہر ان کی لڑائی تئیس سالہ ایبنی جیمِسن سے ہوئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑائی نوزائیدہ بچے کے والد سے شروع ہوئی اور اس کا اختتام ایبنی جیمِسن کے مارشے جونس پر گولی چلانے سے ہوا۔ پیٹ میں لگنے والی گولی کی وجہ سے مارشے جونس نے اپنا نوزائیدہ بچہ کھو دیا تھا۔اے ایل ڈاٹ کام کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرینڈ جیوری ایبنی جیمِسن پر فردِ جرم عائد نہیں کر سکی تھی جس کے بعد انھیں قتل کے الزام سے بری کردیا گیا۔اس مقدمے میں پولیس کا موقف یہ ہے کہ مارشے جونس نے مبینہ طور پر لڑائی شروع کی تھی جس سے انھوں نے اپنے بچے کی جان خطرے میں ڈالی، اس لیے ان پر بھی قتل کا الزام عائد ہوتا ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ایبنی جیمِسن نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔دسمبر میں پلیزنٹ گرو پولیس کے لیفٹیننٹ ڈینی ریڈ نے کہا تھا 'اس لڑائی کا واحد شکار نوزائیدہ بچہ تھا۔ یہ لڑائی بچے کی والدہ نے شروع کی اور وہ لڑتی رہیں جس کا انجام نوزائیدہ بچے کی موت تھا۔'لیفٹیننٹ ریڈ نے مزید کہا کہ 'بچے کی مرضی کے بغیر اسے غیر ضروری طور پر اس لڑائی میں دھکیلا گیا حالانکہ وہ اپنی ماں کی حفاظت کا منتظر تھا۔'مارشے جونس کی گرفتاری کے بعد انھیں جیفرسن کاؤنٹی جیل لے جایا گیا اور جمعرات کو پچاس ہزار ڈالر کے مچلکے جمع کرانے پر چھوڑ دیا گیا۔ایبنی جیمِسن نے خود مارشے جونس پر لگے الزامات کو نااصافی قرار دیا ہے۔بز فیڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ 'میرا نہیں خیال ان پر قتل کا الزام لگنا چاہیے کیونکہ انھوں نے خود اپنے بچے کا قتل نہیں کیا۔'"But she should be charged with child endangerment or assault or something like that."'لیکن ان پر اپنے بچے کو خطرے میں ڈالنے، تشدد کرنے یا اس سے ملتے جلتے کسی الزام میں فرد جرم عائد کی جانی چاہیے۔'انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مذمتحقوقِ نسواں کی تنظیموں نے مارشے جونس پر عائد ریاستی الزامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ امریکی ریاست الاباما میں اسقاط حمل کے خلاف نئے قوانین کی وجہ سے دوسرے مقدمات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔لیکن اس بات کی کوئی تصدیق نہیں کی جا سکی کہ آیا اس مقدمے میں بھی اسقاط حمل کے خلاف کسی قانون کا استعمال کیا گیا ہے۔ بی بی سی نے اس معاملے پر پلیزنٹ گرو پولیس اور جیفرسن کاؤنٹی میں اٹارنی کے دفتر سے وضاحت طلب کی ہے تاہم انھوں نے فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔یلو ہیمر فنڈ نامی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ وہ مارشے جونس کوی قانونی رہنمائی کریں گے۔تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر امینڈا ریس نے ایک بیان میں کہا 'آج مارشے جونس کو حمل میں ہوتے ہوئے ایک شخص سے لڑائی مول لینے اور گولی کا نشانہ بننے پر ملزم قرار دیا جارہا ہے۔'کل کسی دوسری سیاہ فام خاتون کو حمل کے دوران شراب پینے پر سزا دی جائے گی۔ اس کے بعد کسی اور کو بچے کی پیدائش سے قبل صحیح دیکھ بھال نہ کرنے پر سزا ہوگی۔'نیرل پرو چوائس امریکہ کی صدر اور اسقاط حمل کے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی کارکن الیس ہوگ نے ٹوئٹر پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'سال 2019 (امریکہ کی) سرخ (ریپبلکن) ریاست میں وسائل سے محروم سیاہ فام حاملہ خواتین کے لیے کچھ ایسا نظر آتا ہے۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}