گاندھی کے قتل کی ڈرامائی عکاسی کرنے پر ہندو مہا سبھا کی رہنما گرفتار

گاندھی کے قتل کی ڈرامائی عکاسی کرنے پر ہندو مہا سبھا کی رہنما گرفتار

February 06, 2019 - 17:13
Posted in:

انڈیا میں مہاتما گاندھی کے قتل کی ڈرامائی عکاسی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دائیں بازو کی جماعت کی ایک رہنما کو مہاتما گرفتار کر لیا گیا۔ہندو مہا سبھا نے مہاتما گاندھی کے قتل کی سترہویں 'سالگرہ' منانے کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا۔چپل پر گاندھی کی تصویر،ایمازون مشکل میںجب ہندوستان کے مسلمان سکتے میں آگئےگاندھی کے سیکس کے بارے میں خیالات کیا تھے؟
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جناح کے شہر کراچی میں مہاتما گاندھی سے وابستہ یادگاریں خستہ حال ہیںویڈیو میں گروپ کی رہنما پوجا پانڈے ایک پستول سے مہاتما گاندھی کے مجسمے کو گولی ماری اور انہیں قتل کرنے والے شخص ناتھو رام گوڈسے کے مجسمے کو ہار پہنائے۔

اس معاملے میں مزید بارہ لوگوں کےخلاف مقدمے درج کیا گیا ہے۔دائیں بازوں کے کچھ ہندو مہاتما گاندھی کو زیادہ اعتدال پسند سمجھتے تھے۔پولیس تیس جنوری کی بنائی جانے والی اس ویڈیو کے جاری ہونے کے بعد سے ہی پوجا پانڈے کی تلاش میں تھی۔ تیس جنوری 1948 کو نتھو رام گوڈسے نے دلی کے برلاہاؤس میں مہاتما گاندھی کے سینے میں تین گولیاں داغ کر انہیں ہلاک کر دیا تھا۔ نتھو رام قوم پرست دائیں بازو ہندو تنظیم سے وابستہ تھا۔انڈیا کے سخت گیر ہندوؤں کا خیال ہے کہ گاندھی جی نے مسلمانوں کی حمایت کر کے ہندوؤں کے ساتھ دھوکہ کیا تھا۔ان سخت گیر تنظیموں نے پہلے بھی گاندھی جی کی برسی کے موقع پر نتھو رام گوڈسے کو عظیم انسان بتانے کی کوشش کی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}