گائے کے بعد اب ’محبت لنچنگ‘

گائے کے بعد اب ’محبت لنچنگ‘

December 02, 2017 - 08:23
Posted in:

انڈین ریاست بہار کے مغربی چمپارن علاقے میں گذشتہ دنوں ایک نو عمر لڑکے اور لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔17 برس کے مکیش کمار اور 17 برس کی نور جہاں خاتون کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے ایک دوسرے کو پسند کرنے میں مذہب کی حد بندیوں کا خیال نہیں کیا تھا۔ پولیس کی اطلاعات کے مطابق لڑکی کے رشتے داروں نے دونوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔ اس ہفتے کے اوائل میں کیرالہ کی ایک 25 برس کی لڑکی حادیہ کا معلہ اخبارات کی شہ سرخیوں میں رہا۔ حادیہ کو سپریم کورٹ نے اپنے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ حادیہ کا اصل نام اکھیلا ہے اور ان کا تعلق ایک ہندو فیملی سے ہے۔ انھوں نے ایک مسلم لڑکے سے شادی کر لی اور اسلام مذہب قبول کر لیا۔حادیہ کے والدین اور بعض ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی شادیاں ہندو لڑکیوں کو مسلم بنانے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت کی جا رہی ہیں۔ اور وہ اسے ’لو جہاد‘ کا نہم دیتی ہیں۔ حادیہ کی شادی پر اتنا ہنگامہ ہوا کہ کیرالہ ہائی کورٹ نے ان کی شادی کو رد دیا۔ حادیہ اور اس کے شوہر عدالت کو یہ بتاتے رہے کہ انھوں نے کسی دباؤ کے بغیر اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں لیکن عدالت نے ان کی ایک نہ سنی۔ فی الحال سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ملک کا انسداد دہشت گردی ادارہ این آئی اے اس پہلو کی تحقیق کر رہا ہے کہ حادیہ کا معاملہ کہیں ’لو جہاد‘ تو نہیں۔ ابھی تک این آئی کو ایسا کوئی سراغ نہیں ملا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کو شادی کے نام پر ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کی کوئی منظم سازش چل رہی ہے۔

انڈیا ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے چلے آئے ہیں۔ ہندوستانی معاشرہ بنیادی طور پر ایک روایتی اور مذہبی معاشرہ ہے اور لوگ عموماً اپنی اپنی مذہبی روایات پر عمل پیرا رہے ہیں۔ لیکن سوا ارب کے ملک میں لاکھوں ایسے لڑکے لڑکیاں بھی ہیں جن کی انفرادی پسند اپنے مذہب سے باہر نکل جاتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگوں کی پسند ناپسند کا تعلق بنیادی طور پر انسان سے ہوتا ہے اس کے مذہب سے نہیں۔نفرتوں کے اس دور میں ’انٹر فیتھ‘ یعنی دو الگ الگ مذاہب کے لڑکے لڑکیوں کے رشتے اور شادیاں ایک خطرناک سماجی مسئلہ بن چکی ہیں۔ انتہا پسند مذہبی تنظیمیں اور افراد اس طرح کے رشتوں کی شدت سے مخالفت کر رہی ہیں۔ بیشتر معاملات میں تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اکثر اس کی شکار لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ان معمالات میں ریاست کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ والدین اور مذہبی تنظیمں انٹر فیتھ تعلقات کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں اور ان کے نکتۂ نظر سے شاید یہ کچھ حد تک صحیح بھی لگے۔ لیکن کسی جمہوری نظام میں ہر بالغ شخص کو اپنی پسند اور انتخاب کاقطعی حق حاصل ہے۔ انڈیا میں لاکھوں ہندو، مسلمان، سکھ اور مسیحی اپنے مذہب سے الگ لوگوں کو اپنی زندگی کا ساتھی منتخب کرتے رہے ہیں۔ کبھی کبھی کسی مقام پر کچھ چھوٹی موٹی وقتی کشیدگی ہو جاتی تھی۔ لیکن عموماً اس طرح کے رشتوں کو قبولیت حاصل رہی ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے ایسے رشتے مشکلوں سے گزر رہے ہیں۔ حادیہ کا معاملہ اس بدلتے ہو پس منظر کا عکاس ہے۔انڈیا جیسے ملک میں حکومت کو ان رشتوں کی تحقیقات کرنے کے بجائے انھیں تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ صرف شادی اور رشتے کا نہیں ہے۔ یہ فرد کی آزادی اور اپنی زندگی کا ساتھی چننے کی آزادی کا سوال ہے جس کی ملک کے آئین نے ہر شہری کو ضمانت دی ہے۔ بہتر ہو گا کہ حکومت اپنا ساتھی منتخب کرنے کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ایسے ضابطے وضع کرے جن کے تحت حکومتی ادارے ، والدین ، کوئی تنظیم یا کوئی فرد کسی بالغ کی ذاتی پسند کے عمل میں حائل نہ ہو سکے اور اسے محض دو شہریوں کی شخصی آزادی سے ہی تعبیر کیا جائے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}