کیا زیادہ کھانے والا ہر شخص ضرور موٹا ہو گا؟

کیا زیادہ کھانے والا ہر شخص ضرور موٹا ہو گا؟

May 22, 2018 - 10:42
Posted in:

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے باسیوں کو بھی موٹاپے کی وجہ سے صحت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ گو اس حوالے سے اعداد و شمار دستیاب نہیں تاہم ماہرین کے مطابق اندازاً ملک کی ایک تہائی آبادی ایسی ہے جس کا وزن زیادہ ہے۔یہی نہیں بلکہ ملک کی کل آبادی کا 10 سے 15 فیصد حصہ یعنی دو کروڑ سے زیادہ افراد باقاعدہ طور پر موٹاپے کا شکار ہیں۔بی بی سی کا ہیلتھ کیلکیولیٹرآپ کب تک زندہ رہیں گے؟تاہم ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان میں موٹاپے کی وجوہات اور صحت پر اس کے مضر اثرات کی سنگینی کے حوالے سے آگہی کی کمی پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خصوصاً نوجوان نسل میں موٹاپے کا رجحان زیادہ ہے۔ یہ امر اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب پاکستان کی کل آبادی میں جوان افراد کی شرح لگ بھگ 60 فیصد ہے۔ موٹاپا اور اس سے جنم لینے والی پیچیدگیوں کے حوالے سے موجودہ نسل کے مسائل دگنے ہیں۔ ایک تو سیدھا سا اصول ہے، زیادہ کھانے اور ورزش نہ کرنے کے نتیجے میں آپ موٹے ہوں گے۔ تاہم جدت کی طرف بڑھتے اس دور میں ایسے طرزِ زندگی میں جن عوامل کا اضافہ ہوتا ہے ان میں جنک فوڈ یعنی کم غذائیت والی خوراک اور تیز رو معمولاتِ زندگی شامل ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک صحت افزا طرزِ زندگی جس میں وقت پر کھانا، سونا، جاگنا اور ورزش کرنا شامل ہے، اس کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن سے نوجوان نسل کم از کم آگاہ ضرور ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق موٹاپے کا سبب بننے والے چند عوامل ایسے بھی ہیں جن سے یا تو زیادہ تر لوگ لاعلم ہیں یا غلط طور پر انھیں دورِ جدید کے تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

ڈبے کا دودھ اور موٹاپاڈاکٹر فیصل مسعود کا یہ بھی کہنا ہے کہ موٹاپے کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ یہ رجحان بھی ہے جس میں نومولود بچوں کو ماں کے دودھ کی بجائے فارمولا مِلک یعنی ڈبے کا دودھ پلایا جا رہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل اس خیال کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ سے بچے خوراک کی کم فراہمی اور ہیضہ جیسی بیماریوں کے ایک گمبھیر چکر میں پھنس کر ابتدائی عمر میں غذائیت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ’جو بچے بچپن میں ڈبے کا یا گائے بھینس کا دودھ گندے پانی میں بنا ہوا استعمال کرتے ہیں اس سے انھیں ہیضہ ہو جاتا ہے، اس طرح ان کی آنتوں میں ہاضمے کی یا غذائیت کو جذب کرنے کی جو تھوڑی بہت صلاحیت ہوتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔ اس سے ان میں قوتِ مدافعت کی کمی ہوتی ہے اور وہ دوبارہ ہیضہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘اس طرح ایک گمبھیر سے دائرے میں پھس کر بچے غذائیت کی شدید کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سٹنٹنگ یعنی عمر اور جسم کے حساب سے غذائیت کی کمی کی شرح 44 فیصد ہے جس کی وجہ سے بچے عمر کے حساب سے اپنا آئی کیو لیول اور افزائش حاصل نہیں کر پاتے۔’یہی بچے جو ابتدائی عمر میں غذائیت کی کمی کا شکار ہو تے ہیں، جب یہ بچ جاتے ہیں تو یہ اپنے جسم کو اس طرح ڈھال لیتے ہیں کہ یہ تمام کیلوریز کو بچا کر رکھیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اضافی کیلوریز کو استعمال میں لانا شرع کر دیتے ہیں اور یہ ایک جانی پہچانی سائنسی حقیقت ہے۔‘ڈاکٹر فیصل کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ڈبے کا دودھ بہت صحت مند ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ’بچے کے لیے ماں کے دودھ سے بہتر اور مکمل کوئی غذا نہیں ہو سکتی۔‘بظاہر اس حوالے سے عوام میں آگاہی نہیں پائی جاتی۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اسے ڈبے کے دودھ پر منتقل کر کے اس کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}