کیا انڈیا فسطائیت کا شکار ریاست بن رہی ہے؟

کیا انڈیا فسطائیت کا شکار ریاست بن رہی ہے؟

June 27, 2019 - 05:56
Posted in:

انڈیا میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پہلی مرتبہ منتخب ہو کر پارلیمان میں آنے والی رکن ماہوا موئترا کی اس حالیہ تقریر کی دھوم مچی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ انڈین ریاست میں فسطائیت کی ابتدائی علامات موجود ہیں۔ ان کی تقریر، جس میں انھوں نے فسطائیت کی سات علامات کی نشاندہی کی ہے، کو اس برس کی ’سب سے عمدہ تقریر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔فسطائیت (فاشزم) ایسی قوم پرستی ہے جو آمریت کے طور طریقوں کی جانب جھکاؤ رکھتی ہو۔ماہوا موئترہ کا تعلق حزبِ اختلاف کی جماعت ترینامول کانگریس پارٹی سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے فسطائیت کی ابتدائی علامات کی فہرست امریکہ کے ہالوکاسٹ میموریل میوزیم میں موجود ایک پوسٹر پر پڑھی تھی۔یہ بھی پڑھیےاقوام متحدہ کی انڈیا کو تنبیہہاقلیتوں کے خلاف تشدد انڈیا کا اندرونی معاملہ؟کشمیر: ’تشدد کا استعمال انڈین ریاست کی پالیسی کا حصہ ہے‘موئترا کے مطابق اپنی تقریر میں ان علامات کو دہرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ انڈیا کا آئین خطرے میں ہے اور حکمراں جماعت کی ’تقسیم کی سیاست کی ہوس‘ ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو حالیہ عام انتخابات میں ملنے والی شاندار کامیابی کی مبارک باد دینے سے کیا۔حالیہ عام انتخابات میں عوام نے ملک کے طول و عرض سے اپنے ووٹ کے ذریعے یہ واضح کیا کہ وہ بی جے پی اور نریندر مودی کو دوبارہ برسراقتدار دیکھنا چاہتے ہیں۔ مودی اور بی جے پی کو ملنے والی ناقابل یقین کامیابی نے حزب اختلاف، جو کہ سخت مقابلے کی توقع لگائے بیٹھی تھی، کو ششدر کر دیا۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ بی جے پی کو سادہ اکثریت حاصل ہے اور حزب اختلاف پارلیمان میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے موئترہ کی تقریر کو اہم گردانا جا رہا ہے۔اس خاتون ممبر پارلیمان کی تقریر کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ انڈیا میں ابھی تک سیاست پدر شاہی کے گرد گھومتی ہے۔ پارلیمان میں خواتین کی تعداد صرف 14 فیصد ہے۔ اگرچہ کئی خواتین رکن پارلیمان کاروائی میں حصہ لیتی اور تقریریں کرتی ہیں مگر کافی وہ بھی ہیں جو خاموشی سے سائیڈ پر بیٹھنا پسند کرتی ہیں۔بدھ کے روز ماہوا موئترا نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم اپوزیشن میں ہیں اور یہ ہمارا کام ہے کہ مسائل کو سامنے لائیں۔ ہمیں آواز بلند کرنی چاہیے اور نشاندہی کرنی چاہیے۔ ہم ہر نوعیت کے مسائل پر آواز بلند کریں گے۔''اپوزیشن کا کام حکومت کی ناکامیوں اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جن پر حکومت کی توجہ نہیں ہوتی۔ یہ میرا کام ہے اور میں اس کو بااحسن و خوبی سرانجام دوں گی۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}