کیا انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے؟

کیا انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے؟

March 22, 2018 - 10:36
Posted in:

چند ہفتے قبل تریپورہ کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی زبردست فتح کے بعد پارٹی کے کارکنوں نے ریاست میں بعض مقامات پر سابقہ کمیونسٹ حکومت کے دور میں نصب کیے گئے روسی انقلاب کے رہنما لینن کے مجسموں کو اکھاڑ پھینکا۔اس واقع کے ایک روز بعد تمل ناڈو میں برہمنواد کے خلاف دراوڑ تحریک کے بانی پیرییار کے مجسمے کی بے حرمتی کی گئی۔ کئی مقامات پر دلت رہنما امبیڈکر کے مجسمے بھی توڑے گئے۔پچھلے دنوں ایک مقام پر نہرو کی مورتی کو بھی نقصان پہنچانے کی خبر آئی ہے۔ نہرو آزادی کے بعد ملک میں مغربی طرز کے سیکولر جمہوری نظام کے بانی تھے۔یہ بھی پڑھیے’خاتون ہندو یا مسلمان، نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے‘'گجرات انڈیا کی پہلی ہندو ریاست ' ’جب مجھے اپنے ہندو ہونے پر شرم محسوس ہوئی‘تجزیہ کار شوما چودھری کا کہنا ہے کہ ان مجسموں کو اس طرح نقصان پہنچانا بہت گمبھیر معاملہ ہے۔ 'یہ صرف انتخابی سیاست نہیں ہے۔ یہ سماج اور تہذیب کے نام پر ایک جنگ کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس کے پیچھے اس ذہنیت کی کارفرمائی ہے کہ جو بھی تصور غیر ممالک سے آیا ہے اس کے لیے انڈیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘ ہندو توا کی علمبردار تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے بانیوں کا خیال تھا کہ آریہ نسل کے لوگ اصل انڈین ہیں اور ہندوؤں کی دو اہم کتابیں 'مہا بھارت' اور 'راماین' صرف مذہبی کتابیں نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہیں اور ان کے کردار ہزاروں برس پہلے حقیقت میں وجود میں تھے۔ان کا خیال ہے کہ اسلام، مسیحیت اور کمیونزم جیسے 'بیرونی' تصورات نے ہندو تہذیب و تمدن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی ہندوتوا کی علمبردار تنظیموں کا خیال یہ بھی ہے کہ برطانوی سامراجی دور میں لکھی گئی ملک کی تاریخی کتابوں میں ہندو تہذیب و تمدن کے عظیم دور اور اس کی کامیابیوں کو کمتر کر کے پیش کیا گیا اور اسے مسخ کر دیا گیا ہے۔ان کے خیال میں 'انڈیا ہندوؤں کا ہے اور ہندوؤں کے لیے ہے۔' آر ایس ایس کے ترجمان منموہن ویدیہ کا کہنا ہے کہ 'انڈیا کی تاریخ کا اصل رنگ گیروا ہے اور ہمیں ملک میں ثقافتی تبدیلی لانے کے لیے تاریخ کو از سر نو لکھنا ہو گا۔'مودی حکومت نے کچھ عرصے قبل مورخوں، ماہر آثار قدیمہ اور سنسکرت کے سکالروں کی ایک کمیٹی مقرر کی ہے جو یہ ثابت کرے گی کہ موجودہ ہندو ،انڈیا میں سب سے پہلے بسنے والے اصل باشندوں کی ہی اولادیں ہیں۔یہ کمیٹی آثار قدیمہ اور قدیم مخطوطات اور ڈی این اے کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کو شش کرے گی کہ موجودہ ہندو ہی ملک میں ہزاروں برس قبل سب سے پہلے آباد ہونے والے باشندوں کی نسلیں ہیں۔ مورخوں کی یہ کمیٹی یہ بھی ثابت کرے گی کہ ہندوؤں کی قدیم مذہبی کتابیں تمثیلی داستانیں نہیں تاریخی حقیقت ہیں اور اس کے کردار حقیقت میں موجود تھے۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے اس کمیٹی کے بیشتر ارکان اور بی جے پی کے بعض وزرا سے انٹرویو کے بعد لکھا ہے کہ مودی حکومت کی منشا صرف سیاسی اقتدار حاصل کرنے تک محدود نہیں ہے 'وہ انڈیا کی قومی شناخت کو اپنے اس مذہبی نظریے سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں کہ انڈیا ہندوؤں کا اور ہندوؤں کے لیے ہے۔' انڈیا کے سکول کے نصابوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ آریہ نسل کے لوگ تین سے چار ہزار سال قبل وسطی ایشیا سے انڈیا آئے اور بیشتر ہندو انھی کی نسلیں ہیں۔ یہ تصور برطانوی دور کے مورخین نے قائم کیا تھا لیکن ہندو قوم پرست اس تصور کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آریہ یہیں کے تھے اور وہی انڈیا کے اصلی باشندے تھے جن کے وہ وارث ہیں۔مورخ رومیلا تھاپر کا کہنا ہے کہ قوم پرستوں کے لیے یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ سب سے پہلے یہان کون تھا؟ 'کیوں کہ اگر وہ ہندو راشٹر میں ہندوؤں کی برتری قائم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ یہ دکھائیں کہ ان کا مذہب باہر سے نہیں آیا۔'سرکردہ کالم نگار تولین سنگھ کا کہنا ہے کہ ملک کی قدیم تاریخ کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے وزیر اعظم نے جو کمیٹی بنائی ہے اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔وہ لکھتی ہیں 'انڈین بچوں کو یہ حق ہے کہ وہ یہ جانیں کہ ایودھیا میں ایک بادشاہ تھے جن کا نام رام تھا یا پھر وہ ایک کہانی کے راجہ تھے۔ انھیں اس تہذیب کے بارے میں جاننے کا حق ہے جس نے ہزاروں برس پہلے سنسکرت جیسی سائنسی اور بہترین زبان تخلیق کی، وہ کون لوگ تھے؟ کیا وہ سینٹرل ایشیا یا یوروپ سے آئے تھے جیسا کہ ہمیں کمیونسٹ رحجان کے مورخین بتاتے آئے ہیں، یا پھر قدیم دریائے سرسوتی کے کنارے آباد کوئی تہذیب تھی جو اس دریا کے ساتھ ہی مٹ گئی۔' 'وائی آئی ایم ہندو' کے مصنف ششی تھرور کا کہنا ہے تاریخ کو ہندو رنگ دینے کا مقصد ہندو توا کے نظریے کو مرکزیت فراہم کرنا ہے۔ 'ہندووادیوں کے ساتھ ایک مسلہ یہ ہے کہ ان کا ہندو توا کا نظریہ احساس کمتری پر قائم ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ ہندوؤں پر ایک ہزار برس سے حملہ ہوتا رہا، ان پر ظلم کیا گیا اور انھیں ذلیل کیا گیا۔ ان کے خیال میں ان کے لیے یہ جواب دینے اور اپنی برتری قائم کرنے کا ایک موقع ہے۔' مورخ رومیلا تھاپر کہتی ہیں کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کو جو تاریخ وراثت میں ملی وہ سامراجی مورخین یا ان کے ہم عصر مقامی مور خوں نے لکھی تھی۔’اس تاریخ کا ایک منفی پہلو یہ تھا کہ اس نے ان ممالک میں اس تصور کو تسلسل بخشا کہ ان کی شناخت اکثریتی مذہبی گروپ سے وابستہ ہے۔ اکثریتی مذہب کی سیاست جمہوری نظام اور سیکولر سماج، دونوں کو ہی نقصان پہنچاتی ہے۔ اب یہ ان ملکوں کو سوچنا ہے کہ وہ کس طرح کا معاشرہ چاہتے ہیں۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}