'کھانے کی اتنی اہمیت کہ روزے کا تصور نہیں'

'کھانے کی اتنی اہمیت کہ روزے کا تصور نہیں'

December 04, 2017 - 12:19
Posted in:

عہد وسطی میں عربوں کے حملے سے پریشان آتش پرستوں کا ایک گروہ ایران کی بندرگاہ ہرمز سے بھاگ کر مغربی ہندوستان کے علاقے گجرات میں پناہ گزین ہو گیا۔ یہ آتش پرست پارس کے نام کی مناسبت سے پارسی کہلائے۔گجرات کے علاقے میں آباد سنجان گاؤں ان کی پناہ گاہ بنا اور راجہ مادھو نے ان مہاجرین کا استقبال کیا لیکن متعجب تھا کہ اجنبی ملک میں ان اجنبیوں کا گزر بسر کیسے ہوگا؟ پارسی سربراہ نے دودھ کے گلاس میں شکر گھولی اور کہا کہ 'ایسے۔''ہم تمہاری تہذیب کو اپنے وجود سے شیریں اور خوش مزہ بنا دیں گے' اور درحقیقت انھوں نے ایسا کر دکھایا۔وقت کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور وہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے لگے لیکن ان کے پسندیدہ مقامات ہندوستان کے مغربی شہر رہے اور سورت کا ساحلی شہر ان کا پسندیدہ شہر بن گیا۔ہندوستان میں غیر ملکی اقوام کی آمد نے بیرون ملک سے تجارت کے دروازے کھول دیے۔ پارسی بیکنگ کے ہنر میں ماہر تھے۔ یہ ہنر وہ پارس سے سیکھ کر آئے تھے۔ جب انگریز وہاں آئے تو انھیں ڈبل روٹی اور بسکٹ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انھیں سورت میں یہ نعمت کہاں ملنے والی تھی لیکن پارسیوں نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور ایک پارسی دوٹیول خاندان نے ڈبل روٹی بنانے کی فیکٹری لگائی۔

آج پھر سے روایتی پارسی کھانوں کو زندہ کیا جا رہا ہے اور کوشش ہے کہ تین تین تہذیبوں کے علمبردار یہ کھانے پھر سے زند جاوید ہوجائیں تا کہ پارسی قوم کی شیرینی ہندوستانی تہذیب میں گم نہ ہو جائے۔٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}