کچھ دن کے لیے نہ میں کسی کی بیوی اور نہ ماں!

کچھ دن کے لیے نہ میں کسی کی بیوی اور نہ ماں!

March 19, 2018 - 09:16
Posted in:

شوہر کے بغیر میرا پہلا سفر کافی حد تک منصوبہ بند تھا۔ لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد میں انھیں اپنی معلومات دیتے دیتے تنگ آ گئی۔ یوں لگا مجھ پر نظر رکھی جا رہی ہے، میری نگرانی ہو رہی ہے۔ بہر حال مجھے یہ پتہ تھا کہ یہ میری سکیورٹی کے لیے ہی تھا۔لیکن پھر میں نے ایسی جگہوں کی تلاش شروع کر دی جہاں موبائل نیٹ ورک نہ ہو۔میرے مطابق، ہر چھوٹی چھوٹی چیز پر گھر فون کرنا اور پوچھنا کہ کھانا کھایا کہ نہیں، ہوم ورک کیا یا نہیں، یا پھر گھر کے بارے میں سوالات کا جواب دینا میرے لیے قطعی سیر و سیاحت سے لطف اندوز ہونا نہیں تھا۔ میں خوشی کی تلاش میں گھر سے نکلی تھی۔یہ سچ ہے کہ میں متوسط طبقے کی ادھیڑ عمر کی شادی شدہ خاتون اور ایک سات سالہ بیٹے کی ماں ہوں۔ لیکن کیا یہی میری شناخت ہے؟ ایک بیوی اور ماں؟ اور کیا یہ کوئی اصول ہے کہ ایک شادی شدہ خاتون کو اپنے شوہر کے ساتھ ہی جانا چاہیے؟جب میں بھوٹان گئی تھی اسی وقت میرے بیٹے کے سکول میں ٹیچر پیرنٹس میٹنگ تھی۔ میرے شوہر اس میٹنگ میں گئے۔ بعد میں انھوں نے مجھے اپنے بیٹے کے دوست کی والدہ سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا۔HerChoice# سیریز کی مزید کہانیاں پڑھیے٭ 'میں غیر مردوں کے ساتھ انٹرنیٹ پر فلرٹ کرتی ہوں'٭ 'میں نے بغیر شادی کے بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟'انھوں نے میرے شوہر سے پوچھا: 'آپ کی بیوی کہاں ہے؟' میرے شوہر نے کہا: 'وہ شہر سے باہر گئی ہیں۔'انھوں نے کہا: 'اوہ۔۔۔ کام کے سلسلے میں؟' میرے شوہر نے کہا: 'نہیں، بس یوں ہی، گھومنے۔'حیران کن انداز میں انھوں نے کہا: 'کیا واقعی؟ آپ کو اکیلا چھوڑ کر؟' انھوں نے یہ باتیں اس انداز میں کہیں جیسے میں نے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا ہو!میرے شوہر نے اس واقعے کو ہنستے ہوئے مذاق کے انداز میں سنایا لیکن مجھے یہ قطعی مذاق نہیں لگا۔کچھ مہینے قبل اسی خاتون سے ملاقات ہوئی۔ اور ہمارے درمیان کچھ اسی طرح کی بات ہوئی۔ اس وقت ان کے شوہر 'موٹر سائیکل کی مہم' پرگئے تھے اور وہ مجھے فخر کے ساتھ بتا رہی تھی۔اس وقت میں نے ان سے یہ نہیں پوچھا: 'کیا وہ آپ کو اکیلا چھوڑ گئے؟ میرا مطلب آپ کو چھوڑ دیا؟"وہ تنہا ایسی نہیں ہیں۔ بہت سے لوگوں کو خواتین کا تنہا سیر و سیاحت کے لیے جانا عجیب لگتا ہے اور میرے خاندان کے بعض ارکان کے لیے بھی یہ عجیب ہے۔جب میں نے پہلی دفعہ اکیلے جانے کا فیصلہ کیا تو میری ساس کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ لیکن میرے شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ میرا اکیلے جانا کیوں ضروری ہے۔ انھوں نے میری ساس کو سمجھایا تو پھر انھوں نے مخالفت نہیں کی۔میری اپنی ماں ابھی تک میرے اس فیصلے کو قبول نہیں کر سکی ہے۔ میں اس بار گھومنے نکلی تو انھیں نہیں بتایا۔

بعد میں انھوں نے فون کیا اور پوچھا: 'تم کہاں ہو؟ میں کل سے تم سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔' میں نے کہا: 'ماں، میں ایک سفر پر ہوں۔''پھر سے؟ کیوں؟ کہاں؟' انھوں نے پوچھا۔'جی ہاں، بس یوں ہی۔۔۔ تھوڑا سا بریک چاہیے تھا۔ اس بار سڑک سے سفر پر نکلی ہوں۔'پھر انھوں نے پوچھا: 'ٹھیک ہے، تمہار بچہ اور اس کے والد کیسے ہیں؟''وہ اچھے ہیں، وہ میرے ساتھ نہیں ہیں، وہ گھر پر ہیں۔'انھوں نے کہا: 'خدا کی قسم، تم کس قسم کی ماں ہو؟ تم اس طرح ایک چھوٹے بچے کو چھوڑ کر گھومنے کیسے جا سکتی ہو؟ خدا جانے کہ تمہاری ساس نے تمہیں کیونکر جانے دیا؟'میں نے پوچھا: 'ماں، کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں ایک کھونٹے سے بندھی رہوں؟'HerChoice# سیریز کی مزید کہانیاں پڑھیے٭ ’جب جنسی طور پر کمزور مرد سے میری شادی ہوئی‘٭ 'بستر میں جبر کرنے والے شوہر کو میں نے چھوڑ دیا'یہ کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ میں جب بھی تنہا نکلی ہوں ایسا ہی ہوا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ انھیں 'میرے اپنے وقت' کی اہمیت کا پتہ ہے، انھیں اس بات کی زیادہ فکر ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔میں اپنے آپ کو تلاش کرتی ہوئی تنہا ہی نکلتی ہوں۔ مجھے اپنے خاندان کا خیال ہے لیکن میں اپنا خیال بھی کرتی ہوں۔ جب بھی میں گھومنے نکلتی ہوں میں اپنا خیال رکھتی ہوں۔ہر بار جب میں تنہا باہر نکلتی ہوں میری ذمہ داری اور فیصلے سب میرے ہوتے ہیں۔ میں محفوظ رہتی ہوں لیکن میں کچھ نیا کرنے کی جرات بھی کرتی ہوں۔ میں اس وقت مختلف عورت ہوتی ہوں۔ہمیں اسپیتی لے جانے والا ڈرائیور خوبصورت شخص تھا۔ اس نے ہمیں شراب پلائی۔ مجھے اس کے ساتھ بات کرنے اور شراب پینے میں لطف آيا۔ اس نے ایک خوبصورت پہاڑی لوک گیت بھی سنایا۔گذشتہ سال جب میں اپنی خاتون دوست کے ساتھ گھومنے گئی تھی تو ہمارے ڈرائیور نے ہمیں ہوٹل میں چھوڑتے ہوئے پوچھاتھا: 'کیا آپ کو کچھ اور انتظام چاہیے؟'میں اب بھی اس بات کو یاد کرکے ہنستی ہوں کہ وہ شراب کے لیے پوچھ رہا تھا یا پھر جگولو (مرد خدمتگار) کے لیے۔اس قسم کا تجربہ اور حقیقی زندگی سے آپ کی ملاقات اسی وقت ہوتی ہے جب آپ شادی شدہ ہونے کا لیبل ہٹا دیں اور چند دنوں کے لیے صرف ایک عورت نظر آئیں، نہ کسی کی ماں اور نہ بیوی۔(یہ کہانی مغربی ہند میں رہنے والی ایک خاتون کی زندگ پر مبنی ہے جس نے بی بی سی کی نمائندہ اروندھتی راناڈے جوشی سے بات کی۔ خاتون کی خواہش پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی ہے۔ اس سیریز کی پروڈیوسر دویا آریہ ہیں)

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}