کویتی بٹوے کی چوری،’کرے کوئی بھرے کوئی‘

کویتی بٹوے کی چوری،’کرے کوئی بھرے کوئی‘

October 02, 2018 - 07:40
Posted in:

پاکستان کا دورہ کرنے والے کویتی وفد کا مبینہ طور پر ویڈیو میں سرکاری تقریب کے دوران بٹوا چوری کرتے ہوئے دیکھے جانے کے بعد سے ایک سرکاری ملازم کے خلاف تحقیقات کی جاری ہیں۔مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر مشتبہ شخص ضرار حیدر خان کی بجائے جس شخص کی تصویر شائع کی گئی ان کا اس معاملے سے دور دور تک تعلق نہیں اور اس وقت امریکہ میں مقیم یں۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ضرار حیدر خان وزارت صنعت و پیداوار کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں اور چوری کے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں۔پاکستانی اخبار دی نیوز کے مطابق: ’ضرار حیدر خان کی معطلی کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ضرار حیدر خان 20 گریڈ کے ملازم ہیں جو پاکستان میں سرکاری ملازمت کا اعلیٰ گریڈ ہے، اس واقعے سے حکومت کو ’شدید شرمندگی‘ اٹھانا پڑی ہے۔‘کیا ہوا؟ڈان اخبار کے مطابق سی سی ٹی وی کی چھ سیکنڈ کے ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ شخص اکنامک افیئرز ڈویژن میں میز پر پڑا بٹوا اٹھا لیتا ہے۔اخبار کے مطابق چوری کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب کویتی وفد نے اپنے میزبان سے بٹوے کے غائب ہونے کے بارے میں بتایا اور شکایت درج کروائی گئی۔اخبار میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بٹوے میں ’بڑی تعداد میں کویتی دینار‘ موجود تھے اور حکام کی جانب سے یہ ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد مشتبہ شخص کی شناخت کی گئی۔پاکستانی پریس کے مطابق کویتی وفد ’انتہائی برہم‘ تھا اور مشتبہ شخص کی شناخت پر اصرار کر رہا تھا۔

آگے کیا ہوگا؟اس واقعے سے یقینی طور پر حکومت پاکستان کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور اسے امید ہے کہ فوری تحقیقات سے کویتی غصہ ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے۔تاہم ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے کویت کی سرمایہ کاری کے منصوبے کو ’ملتوی‘ ہے اور اس سے ملک میں مالی ضمانت سے بچنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی امیدوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔عمران خان کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے ابھی دو ماہ سے بھی کم کا عرصہ ہوا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد ملک سے بدعنوانی کو پاک کرنے کا عزم کا اظہار کیا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}