کون کہتا ہے ڈائنا ہیڈن خوبصورت ہیں؟

کون کہتا ہے ڈائنا ہیڈن خوبصورت ہیں؟

April 28, 2018 - 05:46
Posted in:

کون کہتا ہے کہ ڈائنا ہیڈن خوبصورت ہیں۔ ان کا دلکش حسن آپ کو کتنا بھی بھاتا ہو لیکن انڈیا کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلاب دیب کو لگتا ہے کہ انہیں مس ورلڈ کا خطاب دینے والوں نے میچ فکسنگ کی تھی!اگر وزیراعلیٰ کا نام کچھ سنا سنا سا لگ رہا ہو تو حیرت کی کوئی بات نہیں، چند روز پہلے بھی وہ سرخیوں میں تھے، اس وقت اپنے اس دعوے کے لیے کہ انٹرنیٹ کی ایجاد ہزاروں سال پہلے انڈیا میں ہوئی تھی اور ملک میں تب بھی لائیو براڈکاسٹنگ عام تھی۔اس مرتبہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر نہیں بیوٹی اور فیشن انڈسٹری پر گیان بانٹ رہے ہیں۔ اور ان کی معلومات کہ بس، سننے کے بعد ہی سمجھ میں آتا ہے کہ انہیں کیوں وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے۔ڈائنا ہیڈن نے 21 سال پہلے مس ورلڈ کا خطاب جیتا تھا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ’ہم نے لگاتار پانچ سال مس ورلڈ یا مس یونیورس کا خطاب جیتا، جس نے بھی مقابلے میں حصہ لیا جیت گیا، ڈائنا ہیڈن بھی جیت گئیں۔۔۔ آپ کے خیال میں کیا انہیں جیتنا چاہیے تھا؟‘سر، اس سوال کا جواب ہم کیا دیں۔ بات ذرا پرانی ہوگئی ہے اور حسن کے یہ پیمانے اپنی سمجھ سے باہر ہیں۔ بپلاب دیب کو ایشوریہ رائے پسند ہیں جو ان کے مطابق ’ہندوستانی خواتین کی صحیح معنوں میں نمائندگی کرتی ہیں!‘ انہیں کون بتائے کہ ڈائنا ہیڈن بھی بہت حسین ہیں اور ایشوریہ رائے بھی۔ بس پسند اپنی اپنی، خیال اپنا اپنا۔ بپلاب دیب کو لگتا ہے کہ حسن کے یہ مقابلے فرضی ہوتے ہیں اور منتظمین پہلے سے ہی یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ خطاب سے کس کو نوازنا ہے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایشوریہ رائے نے جس سال مِس ورلڈ کا خطاب جیتا تھا، اس مقابلے کے نتائج بھی فکسڈ تھے یانہیں۔قدیم ہندوستان میں عورتیں کس طرح سجتی سنورتی تھیں، بپلاب دیب اس کے بھی ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پرانے زمانے میں ہندوستانی خواتین میک اپ کا سامان استعمال نہیں کرتی تھیں۔ نہ اس زمانے میں شیمپو استعمال کیا جاتا تھا، بس لوگ میتھی کے پانی اور مٹی سے نہاتے تھے۔۔۔ یہ سب حسن کے ان مقابلے کی ہی دین ہے۔۔۔آج ملک کے ہر کونے میں بیوٹی پارلر ہیں۔‘

سدھارتھ پتنی نے لکھا ہےکہ بپلاب دیب کو سیاست چھوڑ کر گوسپ کالم لکھنا شروع کردینا چاہیے۔تریشا شیٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب کیا عورتوں کے حسن کا تجزیہ کرنے کے علاوہ تریپورہ میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جو آپ کی توجہ کا طلب گار ہو؟صحافی شو ارور کا کہنا ہے کہ کوئی وزیر اعلی کو بتائے کہ انہیں ریاست کی حکومت بھی چلانی ہے۔اب ان لوگوں کو کون سمجھائے کہ یہ ملٹی ٹاسکنگ کا زمانہ ہے، وزیر اعلیٰ نے سائنس، ٹیکنالوجی اور انٹرٹینمنٹ کاقلمدان اپنے پاس ہی رکھا ہے!

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}