کرکوک میں اہم مقامات پر عراقی افواج کا قبضہ بحال

کرکوک میں اہم مقامات پر عراقی افواج کا قبضہ بحال

October 16, 2017 - 19:57
Posted in:

عراق میں حکومتی فورسز نے کرد جنگجوؤں کے زیرِ قبضہ متنازع شہر کرکوک میں اہم تنصیبات پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ ایک فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ کے ون فوجی اڈے، بابا گروگر آئل اینڈ گیس فیلڈ اور تیل کی ریاستی کمپنی کے دفاتر پر حکومتی اختیار بحال کر لیا گیا ہے۔ پیشمرگہ کو کرکوک سے نکلنے کی مہلت ختمعراقی کردستان کے ریفرنڈم میں اکثریت آزادی کے حق میںکرد آزادی چھوڑ دیں یا پھر بھوکے رہیں: اردوغانبغداد کا کہنا ہے کہ پیشمرگہ نے لڑے بغیر ہی یہ علاقے چھوڑ دیے تھے تاہم کرکوک کے جنوبی علاقوں سے کچھ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ یہ کارروائی کردستان کے خطے میں آزادی کے لیے متنازع ریفرینڈم کے انعقاد کے ایک ماہ بعد شروع کی گئی تھی۔

کرکوک سمیت کرد علاقوں میں علیحدگی کی بھرپور حمایت کا اظہار کرنے والی اس رائے شماری کو عراقی وزیرِ اعظم نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔ کردستان کی علاقائی حکومت نے اسے قانونی قرار دیا تھا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں تمام ہی فریقین سے رابطے میں ہیں تاکہ اس کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ عراقی حکومت چاہتی کیا ہے؟وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے ایک بیان میں کہا کہ کرکوک کے خلاف کارروائی ’ملک کے اتحاد کے لیے ضروری تھی جس کے اس ریفرنڈم کے بعد منقسم ہونے کے خطرہ تھا۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم تمام شہریوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہماری جانباز فورسز کے ساتھ تعاون کریں جو ہماری سخت ہدایات کے تحت ترجیحاتی بنیادوں پر تمام شہریوں کے تحفظ اور سالمیت اور امن کی بحالی کے لیے ہماری ریاستی تنصیبات اور اداروں کی حفاظت کر رہی ہیں۔‘اس سے قبل عراقی فوج نے اعلان کیا تھا کہ کے ون اڈے پر اس کی ایلیٹ یونٹ پھر سے تعینات کی جائے گی۔ یہ اڈہ کرکوک شہر سے شمال مغرب کی جانب پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔فوج کا مزید کہنا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے فوجی ہوائی اڈے، پولیس سٹیشن، بجلی گھر اور متعدد صنعتی علاقوں سمیت کئی اہم سڑکوں، پلوں اور چوراہوں پر بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ کردستان کی علاقائی سکیورٹی کونسل نے الزام عائد کیا ہے کہ بغداد کتی حکومت نے ان پر بلااشتعال حملہ کیا ہے اور یہ کہ پیشمرگہ کردستان اور اس کے لوگوں کے مفادات کا دفاع کرتی رہے گی۔

پیشمرگہ نے پانچ امریکی ساختہ ہموی (فوجی جیپیں) تباہ کیں۔ پیش مرگہ کے ترجمان برگیڈیئر جنرل بہزاد احمد نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کرکوک کے شمال میں ہونے والی لڑائی میں متعدد لوگ مارے گئے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی حامی فورسز نے کئی مکانات کو نذرِ آتش کیا اور کئی لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔‘ان خبروں کی تصدیق کا کوئی راستہ نہیں تاہم طوزخورماتو نامی علاقے میں ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دو افراد گولہ باری کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار امریکی اتحادی فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اب تک عراقی فوج اور پیشمرگہ دونوں کی مربوط نقل و حمل دیکھی ہے تاہم کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}