کراچی میں زہریلا کھانا کھانے سے پانچ بچے ہلاک

کراچی میں زہریلا کھانا کھانے سے پانچ بچے ہلاک

February 23, 2019 - 00:57
Posted in:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں زہریلا کھانا کھانے سے بچوں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے۔ گذشتہ چار ماہ کے دوران کراچی میں اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ حالیہ واقعے میں مرنے والے پانچوں بچے بہن بھائی تھے، جبکہ ان کی والدہ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ متاثرہ خاندان کا تعلق بلوچستان کے پشین ضلع سے بتایا جارہا ہے۔کراچی پولیس چیف ڈاکٹر عامر شیخ کے مطابق متاثرہ خاندان کا سربراہ فیصل بلوچستان کے شہر پشین کا ایک زمیندار ہے، وہ گذشتہ شب 11 بجے پشین سے اپنی بیوی، بہن اور پانچ بچوں کے ساتھ کراچی پہنچا۔ انھوں نے سرکاری لاج قصر ناز میں رہائش لینے کے بعد صدر کے ایک ریستوران سے بریانی لے کر کھائی۔ رات کو تین بجے متاثرہ خاندان کی حالت غیر ہونے پر انھیں ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پانچوں بچے ہلاک ہوگئے، جبکہ ماں کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔مزید پڑھیے’کراچی کے ریستوران کا کھانا ہی بچوں کی موت کی وجہ بنا‘مندر میں زہریلا کھانا کھانے سے 11 افراد ہلاک’گھی لگا کر بچوں کو روٹی دیں تو بچے بیمار ہو جاتے ہیں‘ڈاکٹر شیخ کے مطابق متاثرہ خاندان پشین سے کراچی آئے، راستے میں خضدار سے ایک دوست کے گھر بھی کچھ کھایا تھا۔ پولیس دونوں جگہوں سے شواہد جمع کرے گی۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں، ڈیڑھ سالہ عبدل علی، چار سالہ عزیز فیصل، چھ سالہ عالیہ، سات سالہ توحید فیصل اور نو سالہ سلویٰ شامل ہیں۔

نجی ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے بتایا کہ سندھ حکومت متاثرہ خاندان کی ہرممکن طبی اور قانونی مدد کرے گی جبکہ ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد بذریعہ ایمبولینس یا جہاز کے آبائی علاقے بھیجی جائیں گی۔یاد رہے کہ نومبر 2018 میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں زہریلا کھانا کھانے سے دو بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاکتوں کا یہ واقعہ 10 نومبر کو پیش آیا تھا جب عائشہ نامی خاتون اور ان کے دو بچوں کو طبیعت خراب ہونے پر ایک نجی ہسپتال میں لے جایا گیا تھا جہاں ایک بچے کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ دوسرا دوران علاج چل بسا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}