کراچی: برسوں تعیناتی کے بعد رینجرز کی روانگی، عارضی یا مستقل؟

کراچی: برسوں تعیناتی کے بعد رینجرز کی روانگی، عارضی یا مستقل؟

April 05, 2019 - 18:44
Posted in:

پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی کے بعد سندھ میں اندرونی سکیورٹی پر مامور رینجرز اہلکاروں کو ہٹاکر سرحد پر بھیج دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پولیس کے کمانڈوز کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ سندھ کے سیکریٹری قاضی کبیر نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر کشیدگی کے بعد سندھ رینجرز کی جانب سے محکمہ داخلہ کو ایک خط لکھ کر آگاہ کیا گیا ہے کہ رینجرز کے آپریشنل فرائض ختم کیے جارہے ہیں جس کے بعد غیر ملکی سفارتخانوں، اہم ملکی تعنصیبات پر اب پولیس تعینات کردی گئی ہے۔یہ بھی پڑھیےکراچی میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر خاموشی’کراچی میں امن کے لیے ایم کیو ایم اور پی ایس پی سے ملاقاتیں کیں‘کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم لندن کے درجنوں کارکن گرفتارسندھ رینجرز کا تنظیمی ڈھانچہ اور تعدادسندھ رینجرز سات ونگز پر مشتمل ہے، جن میں انڈس، تھر، شہباز، بھٹائی، قاسم، سچل اور عبداللہ شاہ غازی رینجرز ونگ شامل ہیں اور ہر ونگ 4 سیکٹرز پر مشتمل ہے۔ رینجرز کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ہر ونگ میں 730 اہلکار تعینات ہیں اس طرح کل 120 ونگز میں کل اہلکاروں کی تعداد 20 ہزار 440 بنتی ہے۔ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سیعد نے چند ماہ قبل اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ کراچی میں رینجرز 12000 اہلکاروں پر مشتمل ہے، جن میں سے پانچ ہزار ہوائی اڈے، قومی تنصیبات، چوکیوں، ریڈ زون پر تعینات ہیں جنھیں وہاں سے نہیں ہٹایا جاسکتا جبکہ ایڈمن اسٹاف کے علاوہ چار ہزار اہلکار دستیاب ہیں جو شہر کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔سندھ میں رینجرز کی آمد

کراچی میں رینجرز کی آمد تین دہائی قبل امن و امان کی بحالی کے لیے عارضی بنیادوں پر ہوئی تھی اور ہر سال حکومت سندھ ان کی مدت میں اضافہ کرتی رہی ہے، تاہم رینجرز نے شہر میں اپنے قیام کے مستقل ٹھکانے بھی بنائے ہیں، جن میں قومی ورثہ قرار دیے گئے جناح کورٹس، میٹھا رام ہاسٹل، ریڈیو پاکستان کی قدیم عمارت، پیپلز سٹیڈیم اور غالب لائبریری بھی شامل ہے۔ رینجرز حکام کا موقف رہا ہے کہ جگہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان جگہوں پر قیام کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سپر ہائی وے پر بھی رینجرز کو حکومت سندھ کی جانب سے زمین فراہم کی گئی ہے جہاں رہائشی کالونی کے علاوہ سکول بھی قائم کیا گیا ہے۔حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ موقف رہا ہے کہ سندھ میں پولیس کی افرادی قوت اور قابلیت میں اضافہ کیا جائے تاکہ رینجرز کی مزید خدمات حاصل نہ کی جاسکیں۔ موجودہ وقت میں گذشتہ ایک ہفتے سے پولیس نے تمام معاملات سنبھالے ہوئے ہیں۔بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پولیس سیاسی اثر کے طابع ہے جبکہ رینجرز آزاد ہے اور ہر وفاقی حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں اس کا اثر رسوخ رہے اس لیے رینجرز کی روانگی عارضی ثابت ہو گی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}