کتے کے کاٹے کی ویکسین انڈیا سے آنا بند

کتے کے کاٹے کی ویکسین انڈیا سے آنا بند

June 28, 2019 - 05:57
Posted in:

سندھ میں ساحلی ضلعے ٹھٹہ کے شہر ساکرو میں 14 سالہ کاشف سہراب کو جب کتے نے کاٹا تو ان کے والدین یہ سوچ کر ڈاکٹر کے پاس نہیں گئے کہ کتا پالتو ہے باؤلا یا آوارہ نہیں۔لیکن چند ماہ بعد کاشف کی طبیعت بگڑنے لگی اور بروقت ویکسین نہ لگنے کے باعث بچہ فوت ہو گیا۔کاشف سہراب کے پڑوسی محمد اسلم نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ تقریباً نو ماہ قبل کاشف کو کتے نے کاٹا اور چند روز قبل جب اس کی حالت بگڑی تو والدین اسے مقامی مولوی کے پاس دم کروانے لے گئے۔ مولوی صاحب کے مشورے پر کاشف کو مقامی ہسپتال لیجایا گیا تو وہاں ویکیسن دستیاب نہیں تھی۔یہ بھی پڑھیےدلی کے بگڑے ہوئے آوارہ کتےآوارہ کتوں کو بانجھ بنانے کی استدعاانڈین سپریم کورٹ کا کتے مارنے والوں کےخلاف کارروائی کا حکمبعد ازاں کاشف کے لواحقین اسے جناح ہپستال کراچی لے گئے جہاں اس کی موت واقع ہوئی۔جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ کاشف کو دو روز قبل تقریباً صبح 6 بجے ہسپتال لایا گیا تھا لیکن ایک، ڈیڑھ گھنٹے میں ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔’جناح ہسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب ہے لیکن سندھ میں بالعموم اس کی قلت ہے۔ اس ویکسین کے ساتھ متاثرہ فرد کو ربیز امینوگبلن بھی لگنا چاہیے جو ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتا۔ اس صورتحال میں خدشہ یہ ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص کو ربیز ہو جائے گی۔‘سندھ کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجوئیٹ میں رواں برس کتے کے کاٹنے کے تقریباً 6 ہزار کیسز آ چکے ہیں جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد ساڑھے سات ہزار کے قریب تھی۔

انڈیا اینٹی ریبیز ویکسین پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، ماینمار، ترکی اور افریقی ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ جناح ہپستال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ چین کی ویکسین پر پاکستان کو اعتماد نہیں کیونکہ ویکسین جب تک ایف ڈی اے یعنی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور شدہ اور عالمی ادارے صحت سے تصدیق شدہ نہ ہو تو تب تک وہ اس ویکسین استعمال کرنے سے کتراتے ہیں۔ سندھ کے ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر مقصود کی جانب سے تمام ڈویژن کے کمشنروں کو خط تحریر کیا گیا ہے جس میں آوارہ کتوں کے معاملے سے نمٹنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔یاد رہے کہ چند سال قبل جب بلدیاتی اداروں نے آوارہ کتوں کو تلف کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا تو ایک غیر سرکاری تنظیم نے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس تنطیم کا کہنا تھا کہ کتوں کو زہر دیکر مارنے کے بجائے اس کی نس بندی کی جائے، جس کے بعد کراچی میں انڈس ہسپتال میں اس حوالے سے ایک منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}