کاتالونیہ کے پولیس چیف پر بغاوت کا الزام

کاتالونیہ کے پولیس چیف پر بغاوت کا الزام

October 06, 2017 - 17:57
Posted in:

کاتالونیہ کے پولیس چیف جوسیپ لوئی تراپیرو کو ریاست کے خلاف بغاوت کے الزام میں میڈرڈ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ کاتالونیہ کی پولیس فورس کے سربراہ موسوس ڈی ایسکیاڈرا پر الزام ہے کہ وہ یکم اکتوبر کو آزادی کے لیے ہونے والے ریفرینڈم سے پہلے مظاہرین سے سپین کی قومی پولیس کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔ اس ریفرینڈم کو سپین کے قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ کاتالونیہ میں آزادی کا ریفرنڈم، تصاویر’کاتالونیہ نے ریاست بننے کا حق جیت لیا ہے‘سپین کی آئینی عدالت کے ایک حکم نامے نے پیر کو ہونے والے کاتالونیہ کی پارلیمان کا اجلاس معطل کر دیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود کاتالونیہ کی پارلیمان نے اس اجلاس کو ترک نہیں کیا۔ کاتالونیہ کے خارجی امور کے سربراہ راؤل رومیوا نے بی بی سی کو بتایا، 'پارلیمان کا اجلاس ہو گا، اور ہم اس بارے میں بات کریں گے۔ سپین کی حکومت نے اب تک جتنی رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، وہ نہ صرف ناکام ہوئی ہیں بلکہ ان کا الٹا اثر ہوا ہے۔‘خیال کیا جا رہا ہے کہ اتوار کے متنازع ووٹ کے بعد اس اجلاس میں کاتالونیہ سپین سے آزادی کا اعلان کر دے گا۔ ایک اہم موڑپولیس چیف جوسیپ لوئی تراپیرو کے علاوہ ایک اور پولیس افسر اور آزادی کے لیے کام کرنے والے دو سرکردہ کارکنوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ 20 ستمبر کو بارسیلونا میں کاتالونیہ اکانامی ڈیپارٹمنٹ کے باہر کاتالونیہ کی آزادی کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران انھوں نے سپین کی قومی پولیس فورس گارڈیا سِوِل کی مدد نہیں کی۔ سپین کے سرکردہ اخبار ایل پائس کا کہنا ہے کہ موسوس کے خلاف اس طرح کا الزام سپین جیسے جمہوری ملک میں انتہائی غیر معمولی ہے۔ 1882 سے اب تک ’بغاوت‘ کا جرم سپین کے ہر پینل کوڈ کا حصہ رہا ہے، اور اس کے تحت 15 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔ اسی سال اگست میں بارسیلونا میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہونے والی کارروائی کے لیے موسوس کی تعریف کی جا رہی تھی۔ کاتالونیہ کی علاقائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ چند دنوں کے اندر یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کر سکتی ہے۔

سپین کے وزیر اعظم ماریانو راہوو اس سلسلے میں کابینہ کے ایک اجلاس کی سربراہی کریں گے۔ اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کی شرح 42 فیصد تھی، اور 22 لاکھ لوگوں نے اس میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 90 فیصد ووٹ آزادی کے حق میں پڑے۔ تاہم حتمی نتائج اب تک شائع نہیں کیے گئے۔ اس ووٹنگ کے دوران کئی بےضابطگیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ کاتالونیہ میں ریفرینڈم شروع، جھڑپوں میں ’سینکڑوں‘ زخمیسپین کی پولیس نے ووٹنگ کے دوران ایک عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے بیلٹ باکسز کو ضبط کرنے اور ووٹروں کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں پرتشدد واقعات پیش آئے اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ موسوس کمانڈروں کے علاوہ میڈرڈ میں ہونے والی اس پیشی میں کاتالونیہ کی قومی اسمبلی کے صدر جورڈی سانچیز اور سِوِل سوسائٹی کی تنظیم اومنیم کے کلچرل سربراہ جورڈی کوئکزارٹ سے بھی سوال کیے جا رہے ہیں۔ یہ دونوں کاتالونیہ کی آزادی کے حامی ہیں۔ سپین کی حکومت نے کاتالونیہ کی آزادی پر مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جبکہ کاتالونیہ کے رہنما بین الاقوامی ثالثی کا مطالبہ کرتے ہیں اور انہوں نے کئی بار یورپی یونین سے بھی مدد کی اپیل کی ہے۔ کاتالونیہ سپین کا امیر ترین خطہ ہے اور ملک کے جی ڈی پی میں اس کا حصہ 19 فیصد ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}