ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کیا ہے؟

ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کیا ہے؟

January 25, 2018 - 06:03
Posted in:

قصور میں زینب اور سات دوسری بچیوں کے قاتل کی گرفتاری ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی۔ اس موقعے پر بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھنا شروع ہو گئے کہ ڈی این اے کے ذریعے کسی شخص کی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے؟ڈی این اے کو سمجھنے کے لیے عام طور پر جو مثال دی جاتی ہے وہ کسی مکان کے بلیو پرنٹ یا نقشے کی ہے جس پر عمل کر جسم کا پورا ڈھانچہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ جیسے ہر مکان کا تعمیر کا نقشہ الگ ہوتا ہے، اسی طرح ہر انسان کے جسم کی تعمیر کے لیے الگ الگ نقشے ہوتے ہیں۔اگر آپ کو کسی مکان کا نقشہ مل جائے تو اس کی مدد سے آپ اس گھر کو پہچان سکتے ہیں۔ جسم تعمیر کرنے اور اس کا نظام چلانے کے لیے ڈی این اے کی ہدایات ایک خاص زبان میں درج ہوتی ہیں۔ اس زبان کے حروفِ تہجی صرف چار ہوتے ہیں اور انھیں عام طور پر رومن حروف A, C, T, G کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایک انسان کا مجموعی ڈی این اے (جسے 'جینوم' کہا جاتا ہے) تین ارب الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ڈی این اے کے چار 'حروف' کسی زبان کے حروف کی طرح نہیں، بلکہ دراصل کیمیائی مرکبات ہیں جنھیں A, C, T, G کا نام دے دیا گیا ہے اور یہ جینوم میں ایک مخصوص ترتیب سے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ جس طرح اردو کے الفاظ کو ایک خاص ترتیب میں لکھنے سے ایک کتاب مرتب ہوتی ہے، اس طرح سے ڈی این اے کے ان مرکبات کی مخصوص تکرار سے کسی ایک مخصوص انسان کا جینوم تیار ہو جاتا ہے۔اگر یہ ساری ہدایات مکمل طور پر لکھی جائیں تو اس سے عام سائز کی تقریباً پانچ ہزار کتابیں بن جائیں گی۔ جیسے کہ پہلے بتایا گیا، ہر انسان کی کتاب مخصوص ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہر انسان کی انگلیوں کے نشان مخصوص ہوتے ہیں۔ڈی این اے ٹیسٹنگ میں کیا ٹیسٹ کیا جاتا ہے؟ڈی این اے کے بنیادی حروف چونکہ کیمیائی مرکبات پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لیے لیبارٹری میں کیمیائی طریقوں سے ٹیسٹ کر کے کسی ملزم کو شناخت کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ڈی این اے فنگر پرنٹنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلا مرحلہ تو یہ ہوتا ہے کہ ملزم کے جسم کے کسی بھی حصے کا نمونہ مل جائے۔ یہ نمونہ اس کے بالوں، تھوک، جنسی رطوبت، خون یا جلد کے کسی ٹکڑے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل انتہائی احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ اسے کسی اور کا ڈی این اے آلودہ نہ کر دے۔ اگر نمونہ حاصل کرنے والے اہلکار کو چھینک بھی آ جائے تو اس کا ڈی این اے ملزم کے ڈی این اے کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔

انتہائی کم امکانپولیس کے مطابق علی عمران کے ڈی این اے اور بچیوں کے جسم کے اندر سے ملنے والے ملزم کے ڈی این اے کے درمیان اتفاقی مماثلت کا امکان ایک کے مقابلے پر 178 کواڈریلین ہے۔ یعنی 178 کے بعد 15 صفر، یعنی 178,000,000,000,000,000,000اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر 178 کواڈریلین انسان موجود ہوں، تو ان میں سے دو کے ڈی این اے کے آپس میں ملنا کا امکان ہو سکتا ہے۔ لیکن چونکہ دنیا کی مجموعی آبادی اس رقم کے مقابلے پر دو کروڑ گنا سے بھی کم ہے اس لیے یہ بات پورے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ پولیس کو اس کا مطلوب شخص مل گیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}