چی گویرا کی پچاسویں برسی کی تقریبات

چی گویرا کی پچاسویں برسی کی تقریبات

October 08, 2017 - 21:07
Posted in:

کیوبا میں انقلابی رہنما چی گویرا کی گرفتاری اور موت کی پچاسویں برسی منائی جا رہی ہے۔کیوبا کے شہر سانتا کلارا میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں جہاں چی گویرا نے باغیوں کی قیادت کرتے ہوئے آمریت کے خلاف فیصلہ کن فتح حاصل کی تھی۔ ٭چی گویرا اور کاسترو کی نایاب تصویریں٭ امریکہ - کیوبا تعلقات: چی گویرا ہوتے تو کیا کہتے؟شہر میں چی گویرا کے مجمسے اور آخری آرام گاہ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہیں جن میں ان کے ساتھی اور موجودہ صدر راؤل کاسترو بھی موجود ہیں۔صدر راؤل کاسترو نے تقریبات کے آغاز پر چی گویرا کی قبر پر سفید پھول رکھا اور اس تقریب کو سرکاری میڈیا پر براہ راست دکھایا گیا۔چی گویرا کو 1967 میں بولیویا میں انقلاب لانے کی کوشش کے دوران فوج نے گرفتار کر لیا تھا اور گرفتاری کے ایک دن بعد ہی انھیں مار دیا گیا تھا۔ چی گویرا کی لاش کو سنہ 1997 میں کیوبا میں منتقل کیا گیا تھا۔ سن انیس سو انسٹھ میں کیوبا میں انقلابی رہنما چی گویرا نے فیدل کاسترو کے شانہ بہ شانہ لڑتے ہوئے ملک میں امریکہ نواز آمر بتیستا کے خلاف کامیاب لڑائی کے بعد حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں سوشلسٹ حکومت قائم کی تھی۔چی گویرا کی موت کے پچاس برس بعد کیوبا میں کرنسی نوٹ پرتصویر سے لے کر بل بورڈزتک ہر جگہ چی گویرا کا نام گونجتا ہے اور آج بھی لاطینی امریکہ کی جانی مانی شخصیت ہیں۔لاطینی امریکہ ہی نہیں بلکہ چی گویرا کو دنیا کا بڑا حصہ جانتا ہے اور اس بڑے حصے میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں جو اس زمانے سے واقف بھی نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں نوجوان ابھی بھی ایسی ٹی شرٹیں پہنتے ہیں جن پر چی گویرا کی وہ تصویر ہوتی ہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز کے بال اور داڑھی اور ٹوپی پہنے مسکراتے دکھائی دیتے ہیں۔تقریبات میں موجود ایک شخص نے کہا کہ' ہم اس کے بہت قریب ہیں اور ہم انھیں ہمیشہ اپنے قریب رکھیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ چی کیوبا کی لاطینی امریکہ اور دنیا میں نمائندگی کرتے ہیں اور یہ ہمارے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ ان کی تصویر لوگوں کی چھاتی اور دلوں میں ہے۔'

چی گویرا نے موت سے پہلے کاسترو کے نام خط میں لکھا تھا کہ: 'مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے فرض کا وہ حصہ ادا کر دیا ہے جس نے مجھے کیوبا کی سرزمین اور انقلاب سے منسلک رکھا۔ سو میں تم سے، ساتھیوں سے اور تمھارے عوام سے جو کبھی کے میرے ہو چکے ہیں، رخصت ہوتا ہوں۔ کوئی قانونی بندھن مجھے اب کیوبا کے ساتھ نہیں باندھ رہا ہے، جو رشتے ہیں وہ ایک اور نوعیت کے ہیں، ایسے رشتے جنھیں اپنی مرضی سے توڑا نہیں جا سکتا۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}