چین، پاکستان اور انڈیا ایک پیج پر؟

چین، پاکستان اور انڈیا ایک پیج پر؟

June 26, 2019 - 20:51
Posted in:

پاکستان اور چین سمیت 55 ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے انڈیا کی متفقہ طور پر حمایت کی ہے۔ 15 رکنی سلامتی کونسل کے پانچ غیر مستقل ارکان کے لیے انتخاب آئندہ برس جون میں متوقع ہے۔ایشیا پیسیفک خطے کے جن 55 ملکوں نے انڈیا کی بحیثیت امیدوار حمایت کی ہے ان میں پاکستان اور چین کے علاوہ بنگلہ دیش، ملائشیا، کویت، سعودی عرب، شام، ترکی، نیپال، متحدہ عرب امارات، جاپان، ایران، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، قطر اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں۔انڈیا میں اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں انڈیا کے نمائندے سید اکبرالدین نے ایک ٹویٹ میں ان ملکوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 'ایک متفقہ قدم: اقوام متحدہ میں ایشیا کے پیسیفک گروپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک غیرمستقل نشست کے لیے 2021/22 میں دو برس کی مدت کے لیےانڈیا کی امیدواری کی توثیق کی ہے۔'یہ بھی پڑھیےانڈیا پاکستان: ’طلاق یافتہ جوڑے کی مانند‘ انڈیا پاکستان جھگڑا اور فنکاروں کے بیاناتانڈیا نے مئی میں کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائازیشن میں سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے گروپ کے ملکوں سے حمایت مانگنے کے ساتھ اپنی مہم کا آغاز کیا تھا۔ اقام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ارکان امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین شامل ہیں۔ صرف انہی ممالک کو سلامتی کونسل کے کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے علاوہ کونسل کے دس اورارکان ہیں۔ 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی غیر مستقل ارکان کا دو برس کی مدت کے لیے انتخاب کرتی ہے۔سلامتی کونسل کی دس غیر مستقل سیٹوں کی تقسیم دنیا کے مختلف خطوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ پانچ نشستیں افریقہ اور ایشیا کے لیے مخصوص ہیں۔ دو سیٹیں لاطینی امریکہ اور کیریبین ممالک کے لیے اور دو سیٹیں مغربی یورپ اور دوسرے ملکوں کے لیے۔ ایک سیٹ مشرقی یورپ کے لیے رکھی گئی ہے۔انڈیا ماضی میں سات بار سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے منتخب ہو چکا ہے۔ آخری بار اسے 2011-2012 کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔یہ بھی پڑھہےانڈیا ہندو پاکستان بن سکتا ہے! ’کیا پاکستان میں وڑا پاؤ ملتا ہے؟‘انڈیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاح کے لیے برسوں سے کوششیں کرتا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ موجودہ کونسل اکیسویں صدی کی دنیا کی عکاسی نہیں کر رہی ہے۔ کئی دیگر ملکوں کے ساتھ اس کا مطالبہ ہے کہ سلامتی کونسل میں توسیع کر کے اسے بھی مستقل رکن کے طور پر شامل کیا جائے۔ جرمنی اور جاپان بھی اس کے دعویدار ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}