چترال میں مفت بس سروس

چترال میں مفت بس سروس

March 20, 2018 - 06:31
Posted in:

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کا پہاڑی ضلع چترال کا شمار ملک کے پسماندہ ترین مقامات میں ہوتا ہے جہاں عرصہ دراز سے بنیادی سہولیات کا شدید فقدان رہا ہے۔ قدرتی آفات سے بری طرح متاثرہ اس علاقے میں اگر ایک طرف صحت عامہ کے لاتعداد مسائل موجود ہیں تو دوسری طرف ضلع بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی وجود ہی نہیں جس سے شہری پہاڑی اور دشوار گزار مقامات پر پہنچنے کےلیے پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔ لیکن اب چترال کے ایک شہری نے خواتین اور بچوں کو سفری سہولت فراہم کرنے کےلیے ’مفت بس سروس‘ کا آغاز کرکے ایک نئی مثال قائم کردی ہے۔ ’فری فیملی بس‘ کے نام سے بلامعاضہ پبلک ٹرانسپورٹ کو قائم ہوئے سات ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے اور اس دوران اسے پورے علاقے میں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ شہر میں یہ بس اتنی مشہور ہوگئی ہے کہ آج کل اس میں سواریوں کےلیے جگہ کم پڑنے لگی ہے۔چترال شہر کے علاقے گین کورنی سے ہر صبح نو بجے یہ بس نکلتی ہے اور مختلف سٹاپوں سے بیمار خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو اٹھاتے ہوئے انھیں مرکزی بازار اور ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور پھر واپسی پر بھی ان کو فری سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

چترال شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی تصور نہیں یعنی یہاں بڑی گاڑیوں کا رواج نہیں بلکہ مقامی لوگ سفر کرنے کےلیے ٹیکسی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں جو عام طورپر مقامی افراد کی بس کی بات نہیں۔ شہزادہ سراج الملک کے مطابق ’میرے ساتھ کئی لوگ رابطے کررہے ہیں کہ چترال کے دوسرے علاقوں میں بھی اس طرح کی سروس شروع کی جائے لیکن میں مزید خرچ برداشت نہیں کرسکتا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال تھا کہ شاید چترال کے کچھ مخیر حضرات بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال دیں گے اور اس طرح کی سہولت دیگر علاقوں میں بھی شروع کی جائے گی لیکن ابھی تک کسی کی طرف سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ان کے بقول حکومت کو اس جانب ضرور توجہ دینا چاہیے اور اگر مفت سروس فراہم نہیں کرسکتی تو کم سے کم کوئی اچھی اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ کا آغاز ہی کیا جائے تاکہ غریب عوام کے مسائل کچھ تو کمی آئے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}