پی ایس ایل: غیرملکی کرکٹرز میں کون دھاک بٹھائے گا؟

پی ایس ایل: غیرملکی کرکٹرز میں کون دھاک بٹھائے گا؟

February 20, 2018 - 08:54
Posted in:

پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ٹورنامنٹ میں بھی پچھلے دو ایونٹس کی طرح غیرملکی کرکٹرز موجود ہیں جن میں سے بعض کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی قابل ذکر کارکردگی سے پی ایس ایل کے نمایاں کرکٹرز بن سکتے ہیں۔ کرس لِن آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ کرس ِلن پہلی بار پاکستان سپر لیگ کھیل رہے ہیں۔ لاہور قلندر نے انھیں اس امید کے ساتھ حاصل کیا ہے کہ فخرزمان اور برینڈن مک کلم کے ساتھ ان کی جارحانہ بیٹنگ ٹیم کی قسمت بدل سکے گی۔کرس ِلن بگ بیش، آئی پی ایل اور کیربیئن لیگ بھی کا حصہ رہ چکے ہیں۔ وہ سنہ 2015 میں بگ بیش میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے تاہم حالیہ بگ بیش مقابلوں میں وہ پانچ میچز میں صرف ایک نصف سینچری سکور کرپائے ہیں۔انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف سہ فریقی ٹی 20 سیریز کے چار میچوں میں وہ ایک بار بھی نصف سنچری عبور نہیں کرسکے ہیں۔وہ کسی بھی بولنگ اٹیک کے حوصلے پست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ خود مکمل فٹ ہوں۔ بائیں کندھے کی تکلیف ان کے آگے بڑھنے کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بنی رہی ہے۔

عمران طاہرجنوبی افریقی لیگ سپنر دنیا کے مختلف ممالک میں سب سے زیادہ ٹیموں کی نمائندگی کرنے والے کرکٹر ہیں۔ٹی 20 فارمیٹ میں جسے عام طور پر بیسٹمینوں کی کرکٹ کہا جاتا ہے جن بولرز نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے ان میں عمران طاہر قابل ذ کر ہیں۔گذشتہ سال فروری میں آئی سی سی نے جب ٹی 20 اور ون ڈے کی عالمی رینکنگ کا اعلان کیا تو دونوں میں سرفہرست نام عمران طاہر کا تھا ۔وہ ون ڈے کی موجودہ عالمی رینکنگ میں بھی پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ٹی 20 کی عالمی رینکنگ میں اس وقت ان کا پانچواں نمبر ہے۔عمران طاہر کو اپنی لیگ سپن اور گگلی سے حریف بیٹسمینوں کی غلطیوں سے فائدہ اٹھانا خوب آتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہی پانچوں کرکٹرز جن کا یہاں ذکر ہوا ہے پاکستان سپر لیگ کے نمایاں کرکٹرز ثابت ہوں۔اس لیگ میں دوسرے غیرملکی کرکٹرز بھی موجود ہیں اور یہ نہیں معلوم کس دن کس کا جادو چل پڑے اور وہی سٹار آف دی ایونٹ بن کر سامنے آجائے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}