پیشہ ور صاحبو تم بھکاری نہیں

پیشہ ور صاحبو تم بھکاری نہیں

December 03, 2017 - 13:42
Posted in:

شاید آپ کو یاد ہو لگ بھگ دو برس پہلے لاہور میں ایک ماں تین معصوم بچے لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ ان بچوں کے گلے میں پڑے پلے کارڈز پر لکھا تھا ’غربت کے ہاتھوں مجبور برائے فروخت۔‘ اس کے بعد کئی شہروں میں پریس کلب یا مصروف چوک پر ہر چند روز بعد کوئی نہ کوئی مرد یا عورت اپنے بچوں کو ایسے ہی پلے کارڈز پہنا کر سڑک پر لانے لگا۔شروع شروع میں تو میڈیا نے اس سٹوری کو کوریج بھی دی۔ کوریج بند ہوئی تو یہ بچے اور ان کے والدین بھی کہیں چلے گئے۔بہت سی بسوں ویگنوں میں ایسے کردار بھی نظر آتے تھے جو سفر شروع ہوتے ہی مسافروں کی گود میں کارڈ پھینکنے لگتے۔ ان پرایک ہی طرح کی عبارت درج ہوتی ’میں یتیم ہوں، پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ گھر والی کو ٹی بی ہے، ایک بچی معذور ہے۔ اللہ کے نام پر کچھ امداد فرما دیجیے۔‘ کارڈ کے ایک کونے پر باریک سا لکھا ہوتا ہے ’مدینہ پرنٹنگ پریس۔‘کچھ عرصے میں مسافر جب ان مجبوروں لاچاروں کو پہچاننے لگتے تو یہ کسی اور روٹ کی بس یا ویگن پکڑ لیتے۔ اب یہ کارڈ ہولڈر خاصے نایاب ہو چکے ہیں۔ وسعت اللہ خان کے گذشتہ کالم بھی پڑھیےفیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے اب کیوں ادھم مچ رہا ہے ؟ تو پھر بتائیے کیا لٹکائیں ؟ نامعلوم کا پیار اور مار ایک زمانے تک ایسے بھی کردار نظر آتے رہے کہ پرات میں چھولے بھرے ہیں اور سر پر اٹھائے چلے جا رہے ہیں۔ اچانک ٹھوکر لگنے سے گر پڑ ے یا چلتے چلتے گر کے بے ہوش ہو گئے یا پھر یکدم مرگی کا دورہ پڑا اور سڑک پر لیٹ کر تڑپنے لگے۔ چھولے زمین پر بکھر گئے۔ پانچ دس راہ گیر جمع ہو گئے۔ کوئی پانی پلاتا، کوئی پیٹھ سہلاتا، کوئی ترس کھا کر سو دو سو تھما دیتا اور تھوڑی دیر میں چھولے والا اٹھتا اور آہستہ آہستہ چل پڑتا۔ اگلے روز کی تیاری بھی تو کرنا تھی۔

اگر تم نے یونہی ہاتھ روکے رکھا تو ہماری معیشت ڈوب جائے گی اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور یہ خانہ جنگی صرف ہماری چار دیواری تک ہی نہ رہے گی۔ اگر اس افراتفری سے فائدہ اٹھا کر کسی پاگل گروہ یا فرد نے ریاست کو یرغمال بنا لیا تو سوچو ہمارے ایٹمی ہتھیار کس کے ہاتھ میں ہوں گے؟اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے جلدی سے جیب ڈھیلی کرو۔ آج چار پانچ ارب ڈالر میں بھی کام چل جائے گا۔ کل کھربوں بھی خرچ کرو گے تو ہماری ریاست تحلیل ہونے کے بعد اردگرد پھیلنے والی تباہی پر قابو نہ پا سکو گے۔ کیا تم کروڑوں نئے پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھا پاؤ گے؟ ہم نے آج تک اپنی غیرت پر سمجھوتہ نہیں کیا بس تمہارے بھلے کے لیے تمہیں آگاہ کر رہے ہیں۔مگر یہ تحکمانہ کارڈ بھی دیگر طریقوں کی طرح زیادہ دیر نہیں چلتا۔ خیراتی رفتہ رفتہ جاننے لگتے ہیں کہ واقعی ریاست ڈوب رہی ہے یا ڈوبنے کی اداکاری کر رہی ہے۔ کوئی پاگل ہی ہوگا جو اپنے ریڑھے پے بیٹھے معذور یا ریاست کو مرنے دے۔ کمینہ خود نہ ترس جائے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}