پاکستانی سیاست اور شاہی دورہ

پاکستانی سیاست اور شاہی دورہ

February 20, 2019 - 16:46
Posted in:

یہ بات تو طے ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورۂ پاکستان قطعاً غیر سیاسی تھا مگر اس کے سیاسی اثرات بہرحال مرتب ہوئے ہیں۔چاہے وقتی طور پر ہی سہی عمران خان کو ذاتی طور پر اور تحریک انصاف کی حکومت کو سیاسی سہارا ملا ہے۔ معاشی گرداب اور بری طرز حکمرانی کی شکار حکومت کو سات ماہ بعد پہلی بار سر اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ سیاسی مخالف، سعودی ولی عہد کے احترام، شان و شوکت اور چکا چوند سے خاموش ہو گئے ہیں۔ اربوں ڈالر کے منصوبوں کے اعلانات سے امیدوں کے چراغ روشن ہو گئے ہیں اور مخالفوں کے الزامات پر اوس پڑ گئی ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے اگرچہ براہ راست کوئی سیاسی بیان نہیں دیا مگر وزیر اعظم عمران خان سے ان کی قربت ، مسکراہٹوں کے تبادلے اور گفتگو میں خاص التفات ظاہر ہو رہا تھا۔ ان کے ایک فقرے ’ہم سرمایہ کاری کے لیے قابل اعتماد پارٹنر کی تلاش میں تھے جو موجودہ حکومت کی صورت میں میسر آ گیا ہے‘، پر حاشیہ آرائی کی جا رہی ہے کہ اس کا مطلب عمران خان کی شفاف حکومت کی تعریف اور ماضی کی کرپٹ حکومتوں پر تنقید ہے۔یہ بھی پڑھیے’اب سعودی عرب ہمارے لیے سمٹ رہا ہے‘سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی رہائی کا اعلانسعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت کیوں؟ہو سکتا ہے کہ ولی عہد کا مطلب یہی ہو یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھوں نے اسے عمومی طور پر استعمال کیا ہو لیکن اس جملے اور دوسری علامتوں سے اشارہ ملتا ہے کہ کم از کم چار دہائیوں کی سعودی مہربانیوں کے بعد ن لیگ اب ان کے دست شفقت سے محروم ہو چکی ہے اور اب عمران خان شریف خاندان کی جگہ لے چکے ہیں۔کوئی ایسی خبر بھی سامنے نہیں آئی کہ سعودی شاہی وفد نے ابتلا میں مبتلا شریف خاندان کا حال چال پوچھا ہو یا ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہو۔ اس بار تو سعودی وفد نے اپنے ہم مسلک علما سے بھی ملاقات نہیں کی حالانکہ اس سے پہلے سعودی عرب سے آنے والے ہر عالم یا وزیر کبیر، ان کے لیے ضرور وقت نکالتے تھے۔ کسی زمانے میں جماعتِ اسلامی پر سعودی نوازشات برستی تھیں۔ مولانا مودودی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں شاہ فیصل ایوارڈ دیا گیا تھا مگر اس بار جماعت اسلامی کے کسی رہنما کو بھی شرف بازیابی نہ ملا۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کئی دہائیوں سے سعودی عرب کی گڈ بکس میں آنے کی کوشش میں ہے لیکن سارے دورے میں ان کی جماعت کے کسی نمائندے کی جھلک تک نظر نہیں آئی۔آصف زرداری اور پیپلز پارٹی تو خیر عرصۂ دراز سے سعودی عرب کی ترجیحات میں کہیں بھی موجود نہیں ہیں اس لیے پیپلزپارٹی کو لفٹ نہ کرانا تو سمجھ میں آتا ہے مگر ماضی کے اتحادیوں اور دوستوں کو یکسر نظر انداز کرنا سعودی انداز فکر میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔دوسری طرف عمران حکومت نے بھی اس دورے پر اپنی اجارہ داری قائم رکھی۔ سیاسی مخالفین کو ملاقات کا موقع دینا تو کجا انہوں نے چودھری شجاعت حسین جیسے بھلے مانس اتحادی کو بھی ڈھنگ سے دعوت نہیں دی۔ دانستہ یا نا دانستہ عمران خان اس دورے کا سارا کریڈٹ خود لینا چاہتے تھے اور وہ اپنی اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔

یہ بھی پڑھیے’پاک-سعودی تعلقات کی گہرائی بڑھتی رہی‘’اب پیسے دیں تو بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے‘سعودی ولی عہد کے دورۂ پاکستان پر پاکستان تحریک انصاف کا حالیہ جوش اور امڈتی خوشی اس کی ماضی کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ تحریک انصاف نے سعودی عرب اور یمن کی لڑائی میں پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھیجنے کی شدید مخالفت کی تھی شاید اس وقت نواز شریف اور پاک فوج بھی یہی چاہتے تھے مگر اس قومی فیصلے کے برے اثرات صرف اور صرف شریف خاندان پر پڑے اور سعودی مہربانوں سے دور ہو گئے۔باقی فریقوں نے اپنی اپنی وضاحتیں دے کر سعودی حکمرانوں کو راضی کر لیا۔ دوسری طرف تحریک انصاف جو فوج بھیجنے کی سب سے زیادہ مخالف تھی حکومت مین آنے کے بعد سعودی عرب سے معاشی امداد مانگنے پر مجبور ہو گئی۔ اندرونی کہانی کا تو علم نہیں لیکن بظاہر اندازہ یہی ہے کہ پاک فوج نے بالعموم اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے با لخصوص ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم عمران خان کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہو گا۔سعودی ولی عہد کے دورۂ پاکستان کے بہت سے مثبت معاشی اور سیاسی اثرات پڑیں گے مگر ساتھ ہی پاکستان کے لیے اندرونی اور بیرونی چیلنچز میں اضافہ بھی ہو گا۔ سعودی عرب سے قربت کی وجہ پاکستان کے متنوع شیعہ، سنی اور اہل حدیث مکاتب فکر میں دوبارہ سے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ ایران کے بعض حامی گروہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی باتیں پوسٹ کیں جس پر ریاست پاکستان کو متحرک ہونا پڑا۔ ایک دو جگہ پر احتجاجی مظاہروں کی بھی کوشش کی گئی لیکن وقت سے پہلے پتہ چلنے پر سکیورٹی اداروں نے ان کو کنٹرول کر لیا۔ولی عہد کے دورے کی چکا چوند ختم ہونے کے بعد حکومت پاکستان کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہییں جس سے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رہے اور ہم جوش میں کہیں کسی ایران مخالف عالمی منصوبے کا حصہ بن جائیں۔ بالکل اسی طرح ہم چین کی طرف سے سی پیک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پربہت زیادہ خوش ہوکر مغربی دنیا اور بالخصوص امریکہ کو نظر انداز نہ کر دیں۔ بہترین پالیسی یہی ہو گی کہ کسی نئے جنگی اتحاد میں شرکت کی بجائے صرف اور صرف معاشی پارٹنر شپ پر توجہ دی جائے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}