پانچ برس سے مغوی غیرملکی خاندان کرّم ایجنسی سے’بازیاب‘

پانچ برس سے مغوی غیرملکی خاندان کرّم ایجنسی سے’بازیاب‘

October 12, 2017 - 18:04
Posted in:

پاکستانی فوج کے مطابق قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران پانچ غیر ملکی مغوی افراد کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ بازیاب کروائے گئے افراد میں ایک کینیڈیئن شہری،ان کی امریکی بیوی اور تین بچے شامل ہیں۔پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اغوا ہونے والے افراد کو 2012 میں افغانستان میں اغوا کیا گیا تھا۔ بیان کے مطابق امریکی حکام نے 11 اکتوبر کو پاکستان فوج کو انٹیلیجنس فراہم کی تھی کہ ان افراد کو کرم ایجنسی کی سرحد کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان پانچوں افراد کو 2012 میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا اور امریکی خفیہ ادارے ایک عرصے سے ان کی تلاش میں تھے۔یہ بھی پڑھیےکرم ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کا خوفدس سال میں کرم ایجنسی میں کیا بدلا؟بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے دی جانے والی خفیہ اطلاعات قابلِ عمل تھیں اور ان کی بنیاد پر کیا گیا آپریشن کامیاب رہا اور تمام مغوی بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔اگرچہ پاکستانی فوج کی جانب سے بازیاب کروائے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے تاہم 2012 میں افغانستان سے ایک جوڑے جوشوا بوئل اور ان کی بیوی کیٹلن کولمین کو اغوا کیا گیا تھا۔ جب اغوا کا یہ واقعہ پیش آیا تو کیٹلن کولمین حاملہ تھیں اور قید میں اس بچے کے علاوہ دو دیگر بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اب ان کے آبائی ملک منتقل کیا جا رہا ہے۔فوج کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کامیاب آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خفیہ معلومات کا بروقت تبادلہ کس قدر اہم ہے اور یہ کہ پاکستان مشترکہ دشمن کے خلاف دونوں ممالک کی افواج کے تعاون سے جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}