ٹوئٹر پر جعلی ٹرینڈ؟ قیمت دو سو ڈالر

ٹوئٹر پر جعلی ٹرینڈ؟ قیمت دو سو ڈالر

March 03, 2018 - 05:23
Posted in:

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب میں بعض کمپنیاں ٹوئٹر کے ہیش ٹیگز کی مقبولیت مصنوعی طریقے سے بڑھانے کے لیے پیسوں کے عوض اپنی خدمات پیش کرتی ہیں۔ چند گھنٹوں کے لیے ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنانے کی خدمات کی قیمت دو سو امریکی ڈالر کے قریب ہے۔یہ ٹوئٹر کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ دسمبر میں 'مسلّم دنبے کی ڈلیوری' کے نام سے ایک ٹرینڈ سامنے آیا جو جلد ہی سعودی عرب کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ 17 ہزار ٹویٹس نے اس کا ذکر کیا جن میں صرف ایک ریستوران کا نام بمع فون نمبر شامل تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہزاروں لوگ اس ریستوران کے بھنے گوشت پر بات نہیں کر رہے تھے، بلکہ اس کے پیچھے باٹ اکاؤنٹس کے نیٹ ورک کا ہاتھ تھا اور دراصل یہ اس ریستوران کی تشہیری مہم تھی۔ سعودی عرب میں یہ پہلی یا آخری مثال نہیں ہے، وہاں اس قسم کے مصنوعی ٹرینڈ عام ہیں۔ ان کے پیچھے ایسی کمپنیوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو ٹوئٹر کے الگوردم میں چھیڑ چھاڑ کے ذریعے ایسا سماجی ماحول پیدا کر دیتی ہیں جو بظاہر اصل لگتا ہے۔ ٹوئٹر میں عالمی ٹرینڈنگ ٹاپکس کے علاوہ ملکی ٹرینڈز کو بھی اہمیت دی جاتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کے لوگ کس موضوع کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ لیکن ٹاپ ٹرینڈز کے تعین کے پیچھے ٹوئٹر کا جو الگوردم کام کرتا ہے وہ کسی موضوع کی صرف مقبولیت کو نہیں دیکھتا، بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ یہ موضوع کتنی جلدی زیرِ بحث آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بریکنگ نیوز بہت جلدی ٹرینڈنگ بن جاتی ہیں۔ بعض کمپنیاں ٹوئٹر کو پیسے دے کر ٹرینڈز کی فہرست میں آ جاتی ہیں، مگر انھیں واضح طور پر نشان زد کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا: 'مجھے احساس ہوا کہ سعودی عرب اور قطر کے تنازعے کے دوران ہزاروں اکاؤنٹ ایسی معلومات دے رہے تھے جو بلکہ غلط یا پھر پروپیگنڈا تھی۔'یہ باٹ لوگوں کو یہ یقین کروا دیتے ہیں خلیج میں اس بارے میں بات ہو رہی ہے۔' ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ وہ اسے اس مسئلے کا علم ہے اور وہ اسے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}