وہ خاتون جاسوس جس سے نازی ’ڈرتے‘ تھے

وہ خاتون جاسوس جس سے نازی ’ڈرتے‘ تھے

May 15, 2019 - 19:31
Posted in:

وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس میں تین برس تک نازی اہلکاروں کی ناک کے نیچے سے جنگ کی خفیہ دستاویزات چوری، اتحادی جاسوسوں کے نیٹ ورک منظم اور فرار ہونے والے قیدیوں کی معاونت کرتی رہیں۔ ان کے دشمن انھیں جاسوسوں میں سب سے زیادہ خطرناک سمجھتے تھے اور حالانکہ ایک ٹانگ سے معذور ہونے اور لنگڑا کر چلنے کی وجہ سے انھیں آسانی سے پہچانا جا سکتا تھا، وہ اپنا تعاقب کرنے والوں سے ایک قدم آگے رہتی تھیں۔ ورجینیا ہال کی ایک ٹانگ لکڑی کی تھی جس کا وزن تین کلو تھا۔ اپنے قریبی ساتھیوں کے لیے بھی وہ ایک معمہ تھیں۔ وہ مسلسل اپنا حلیہ تبدیل کرتی رہتی تھیں۔ وہ اچانک کہیں سے نمودار ہوتی تھیں اور پھر بغیر اطلاع کے غائب ہو جاتی تھیں۔جنگ کے غیر معمولی واقعات اور جان جوکھم والے کاموں کے باوجود لنگڑا کر چلنے والی ورجینیا کی زندگی کے بارے میں لوگوں نے ان کی موت کے بعد ہی جانا۔ ان کی موت سن 80 کی دہائی میں ہوئی تھی۔حال ہی میں ان کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی ہے جس پر اب فلم بنائی جائے گی۔یہ بھی پڑھیےکلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس جنسی غلام بنائی جانے والی خواتین کی ’پہلی‘ ویڈیودوسری جنگ عظیم کے بم کے باعث 70 ہزار لوگوں کا انخلا’فضائی بمباری سے بےمثال تباہی‘ایک ٹوٹا ہوا خوابامریکی ریاست میری لینڈ میں 1906 میں ایک دولت مند گھرانے میں پیدا ہونے والی ورجینیا بچپن سے ہی سفیر بننا چاہتی تھیں۔ وہ انگریزی، فرانسیسی، اطالوی اور جرمن زبانیں روانی سے بولتی تھیں۔بیس سال کی عمر میں ورجینیا اپنی تعلیم مکمل کرنے یورپ پہنچیں اور وارسا، وینس اور ازمیر میں امریکی سفارت خانوں میں بطور کلرک کام کیا لیکن وہ سفارت کار نہیں بن سکیں۔سونیا پرنیل نے تین برس تک ان پر تحقیق کر کے ورجینیا کی سوانی حیات لکھی ہے جس کا نام ’وومن آف نو امپورٹنس‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ورجینیا کو بار بار اس لیے مسترد کیا گیا کیونکہ وہ ایک عورت تھیں اس سے پہلے امریکہ میں کسی عورت کو سفارت کار نہیں بنایا گیا تھا۔‘

سپین برطانیہ کو معلوم تھا کہ اگر ورجینیا جرمنی میں پکڑی گئیں تو ان کے ساتھ کیا ہوگا اس لیے برطانیہ نے انہیں واپس فرانس بھیجنے سے انکار کر دیا اور انہیں سپین میں ہی رکھا گیا۔لیکن ورجینیا فرنٹ لائن پر جانے کے لیے بضد تھیں اور 1944 میں وہ امریکی آفس آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے احکامات پر دوبارہ فرانس میں داخل ہوئیں جو اب پوری طرح نازیوں کے قبضے میں تھا۔یہاں وہ ایک بوڑھی کسان بن کر پہنچیں۔سی آئی اے کے مطابق ورجینیا نے جرمن فوج کے خلاف گوریلا جنگ کے لیے مزاحمت کاروں کی تین بٹالین تیار کیں۔اس دور کی ان کی ایک تصویر امریکہ میں لگی ہے جس کی رونمائی 2006 میں کی گئی تھی۔ جنگ کے بعد انہیں سروس کراس کے علاوہ دیگر اعزازات سے نوازا گیا تھا۔لیکن انہوں نے ہر طرح کی توجہ کو نظر انداز کرتے ہوئے 1966 میں 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے تک خاموشی سے سی آئی اے کے لیے کام کیا۔پرنل کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ لوگ ان کے بارے میں بات کریں اور وہ ایک روایتی خاتون بھی نہیں تھیں۔ ورجینیا 1982 میں انتقال کر گئیں لیکن مورخین نے حال ہی میں ان کی غیر معمولی زندگی کے ٹکڑے جمع کرنا شروع کیے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}