واخان کے مسکراتے افغان

واخان کے مسکراتے افغان

February 28, 2018 - 10:50
Posted in:

واخان کا علاقہ افغانستان کے مشرق میں واقع ہے اور اسے دنیا کے دوردراز ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں صرف پیدل ہی جایا جاتا ہے بی بی سی فارسی کے ارشد ہنریار نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس علاقے کا دورہ کیا اور لوگوں سے ان کی کہانیاں جانیں۔

بہت سے دیگر مقامی مردوں کی طرح یہ شخص بھی پامیر کے پہاڑوں میں مویشی چرا کر گزارہ کرتا ہے۔ ہر ماہ کے اختتام پر بطور تنخواہ اسے ایک بھیڑ ملتی ہے۔ علاقے میں شادی کے لیے کسی بھی عورت کا ہاتھ مانگنے سے قبل ضروری ہے کہ مرد کے ہاس اپنا ریوڑ ہو۔

اسلی بی بی 42 سال کی ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ علاقے میں اگر آپریشن سے بچہ پیدا ہونا ہو تو دس گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہسپتال جانا پڑتا ہے۔ واخان اس تشدد سے تو کہیں دور ہے جس کا سامنا باقی افغانستان کو کرنا پڑا ہے لیکن یہ دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔

اس 16 سالہ لڑکے نے مجھے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے اس کی تصویر کھینچی ہے۔ یہ مجھے سکول کے راستے پر ملا تھا۔ واخان میں صرف 16 سکول ہیں جبکہ آبادی 13 ہزار ہے جو 11 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے اکثر بچوں کو سکول تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔

71 سال کی عمر میں قلیچ بیگ واخان کے لحاظ سے بہت جی چکے ہیں۔ وہ ایک مہمان خانے کے مالک ہیں اور خوشحال ہیں۔ صوبۂ بدخشاں میں زیادہ تر مہمان خانے سیاحتی دفتر کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔

یہ 13 سالہ بچہ بھی سکول جاتا ہے لیکن اس کے بعد اس کا دن ختم نہیں ہو جاتا۔ وہ واپس آ کر کھیت میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ علاقے میں تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے جہاں تک ممکن ہو سکے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں۔

یہ تینوں بچیاں مجھے سکول جاتے ہوئے ملیں۔ دس سے 14 سال عمر کی ان بچیوں کا تعلق سرحدِ بروغل نامی گاؤں سے ہے جہاں یہ سکول کے بعد کھیتوں میں اپنے گھر والوں کی مدد کرتی ہیں۔افغانستان کے دیگر حصوں کے برعکس واخان میں خواتین کو زیادہ آزادی حاصل ہے۔ وہ عوامی تقریبات میں شریک ہو سکتی ہیں، رنگین کپڑے پہنتی ہیں اور مرکزی کارکن ہیں۔

ضیاالدین بندانہ نے مجھے افغان پرچم کے رنگ دکھائے۔ کچھ مقامی لوگ مرکزی حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے پر تنقید کرتے ہیں لیکن ان میں بھی قومی شناخت کے حوالے سے فخر پایا جاتا ہے۔

یہ نوجوان پامیری ٹور گائیڈ واخان راہداری کی سیر کروا کے روزانہ ایک ہزار افغانی کما لیتا ہے۔ اس جیسے کئی دیگر گائیڈ دورانِ سفر دس ڈالر کے عوض کھانا بھی پکا کر دیتے ہیں۔

یہ شخص پامیر کے پہاڑوں پر جانے والے افراد کو گھوڑے کرایے پر دیتا ہے اور 25 ڈالر روزانہ کی بنیاد پر کرایہ لیتا ہے۔ یہ گھوڑے ان افراد کا سامان دشوار گزار پہاڑی راستوں اور ندی نالوں سے لے کر جاتے ہیں اور واپس واخان لاتے ہیں۔ سیاحت مقامی معیشت کا اہم حصہ ہے۔

آٹھ سالہ احمد راشد ایک طالبعلم ہے۔ اس کا تعلق ایک خوشحال خاندان سے ہے جو ایک مہمان ِخانہ چلاتا ہے۔ واخان کے دیگر بچوں کے برعکس احمد سکول کے بعد فارم پر کام نہیں کرتا۔

یہ شخص کالا پنجہ نامی گاؤں میں ایک فارم پر کام کرتا ہے جس کے لیے اسے ہر ماہ پانچ ہزار افغانی تنخواہ ملتی ہے۔ گندم یہاں کی مرکزی فصل ہے لیکن موسم کی شدت کی وجہ سے اس کا معیار زیادہ اچھا نہیں ہوتا

چار سالہ زہرہ واخان کے گاؤں سرحدِ بروغلی کی رہائشی ہے۔ اس کا خاندان مقامی مہمان خانے کے قریب رہتا ہے۔ زہرہ کا زیادہ تر وقت سیاحوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے گزرتا ہے۔

یہ چھ سالہ بچہ دو ماہ قبل گر کر چہرے پر چوٹ لگوا بیٹھا تھا۔ اس علاقے میں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ افغان حکومت نے علاقے میں ایک کلینک کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے جو تاحال وفا نہیں ہوا۔تصاویر: ارشد ہنریار

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}