نظریہ پاکستان کے تحفظ اور خوشحالی کیلیے دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ہے،سراج الحق

نظریہ پاکستان کے تحفظ اور خوشحالی کیلیے دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ہے،سراج الحق

March 19, 2018 - 23:10
Posted in:

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ نظریہ پاکستا ن کی حفاظت اور اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے کے لیے دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ہے،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی دینی جماعتوں کو اکٹھا کیا جائے،وارثین منبر و محراب کو یکجا کیا جائے دینی جماعتیں حقیقی سیاسی قیادت بن کر سامنے آئے ،سیکولر جماعتوں نے پاکستان میں بد امنی و بے روزگاری ، عریانی و فحاشی کو عام کیا ، سیکولر قیادت کی وجہ سے ہی پاکستان بین الاقوامی ایجنسیوں کا اصطبل بن گیا ہے ، یہ سیکولر قیادت بکنے والے ہیں ، سینیٹ الیکشن میں پورا پوا اصطبل فروخت ہوگیا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ جس نے جماعت اسلامی کے کارکنان کواس بدنما داغ سے محفوظ رکھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ دارالسلام گذری میں سالانہ تقریب ختم بخاری شریف سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبد الحق ہاشمی، امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ، امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن ، مہتمم جامعہ حاجی ولی محمد اور دیگرنے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو ،نائب امیر صوبہ سندھ محمد حسین محنتی ، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب ، شیخ الحدیث مولانا امین اللہ ، اشیخ الحدیث مولانا سمیع اللہ ، ناظم اعلیٰ جمعیت اتحاد العلما کراچی مولانا عبد الوحید ،نائب صدر جمعیت اتحاد العلما کراچی مفتی ضیا الرحمن فاروقی ، ناظم جامعہ دارالسلام گزری مولانامحمد عالم اور دیگر بھی موجود تھے ۔سراج الحق نے کہا کہ میرے لیے میری زندگی کا سب سے زیادہ خوشی کا موقع ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے طلبہ کی دستار بندی کی۔یہ وہ طلبہ ہیں جنہوں نے درس نظامی کا کورس مکمل کیا اور اس ذمے داری کو پورا کیاجو اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں علما کرام نے ظلم ، منکرات ، بدعات ، دجال اور دجالی تہذیب کے خلاف جہاد کرنا ہے ، یہ آزمائشوں‘ امتحانات ، فقروفاقہ اور جیل اور قید خانوں کا راستہ ہے ، یہ وہ راستہ ہے جس میں بدرو حنین کے معرکے بھی ہیں ، زمانے کے اس چیلنج کو قبول کرنا ہے، ان کا نعرہ ہے کہ یہاں صرف اور صرف اللہ کا حکم چلے گا ۔ یہ توحید کا نعرہ ہے ، یہ عشق و جدون کا نعرہ ہے اور اس راستہ میں جب کوئی مرتا ہے تو شہید کہلاتا ہے ۔ یہ عزیمتوں کا راستہ جنت اور کامیابی کا راستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں باطل سیاست کا خاتمہ کرنا ہے، بین الاقوامی دجالوں کے نمائندوں کا مقابلہ کرنا ہے اس لیے مشکل راستے کا انتخاب اللہ کی مرضی سے آپ نے خود کیا ہے اور اب اس راستے میں ڈٹ جانا ہوگا جب تک اللہ کا دین غالب نہ ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ خوش نصیب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے لاکھوں کروڑوں لوگوں میں سے آپ کو منتخب کیا ہے اور اس سے بھی زیادہ خوش نصیب ہیں جن کے بچوں نے درس نظامی کا کورس مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلق چاہے کسی بھی صوبے سے ہو ہمیں پورے پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے ، اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے ، دنیائے کفر مدارس ، علما کرام ، منبر و محراب سے ڈرتے ہیں ، انگریزوں نے سب سے پہلے مدارس پرحملہ کیا ۔نائن الیون کے واقعے کے 15منٹ بعد ہی اسلامی مدارس کے نصاب کی تبدیلی کی بات شروع کی گئی ہے اور ڈکٹیٹر نے ہمارے نصاب سے سورہ توبہ اور سورہ انفال کو نکالا اور یہ ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں کہ جو صرف برائے نام مسلمان ہوں،وہ محمد بن قاسم بننے کے بجائے فن کاربننے پر خوشی کا اظہار کرے لیکن میں مبارکباد پیش کرتا ہوں ان مہتمیین کو جنہوں نے مدارس قائم کیے اور لاکھوں افراد کے لیے دین کو عام کیا اور کفار کی سازش کو ناکام کیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی طاقت علما کرام ، دینی مدارس کے طلبہ ہیں ، مساجد میں روزانہ کروڑوں لوگ نماز پڑھتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود عریانی و فحاشی میں اضافہ ہورہا ہے ۔8سال کی بچی بھی درندوں سے محفوظ نہیں رہی ، اسکول کے طلبہ طالبات بھی ظلم و وحشت کا نشانہ بن رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ ہم دینی لوگ تقسیم در تقسیم ہیں ، دشمن نے پاکستان کو رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم کیا اسی طرح دجالی قوتوں نے دینی مدارس کے لوگوں کو تقسیم کیا ہے ۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ امت مسلمہ کو تفرقات میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ غرناطہ میں دینی مدارس تقسیم ہونے کہ وجہ سے تباہ وبرباد ہوگیا تھا آج بھی وہی صورتحال ہے، دینی مدارس کو تقسیم کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے تاکہ پاکستان کی صورتحال بھی غرناطہ جیسی ہوجائے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ سوسائٹی کے بڑوں نے ہمیشہ کفار کا ساتھ دیا ہے لیکن سوسائٹی کے مولویوں نے ہمیشہ دین کا ساتھ دیا ہے ۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}