نااہل مرد بڑے عہدوں تک کیسے پہنچ جاتے ہیں

نااہل مرد بڑے عہدوں تک کیسے پہنچ جاتے ہیں

April 23, 2019 - 08:43
Posted in:

ماہر نفسیات اور ’وآئے سو مینی انکمپیٹنٹ مین بیکم لیڈرز‘ کے مصنف ڈاکٹر ٹومس چامورو پریمیوزک کا خیال ہے کہ ’بات جب رہنماؤں کی آتی ہے تو ہم قابلیت کے بارے میں اتنا غور نہیں کرتے جتنا اصل میں کرنا چاہیے۔‘اپنی کتاب میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی خواتین کے رہنما بننے یا بڑے عہدوں پر فائز ہونے کی راہ میں مشکل کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ہمیں مردوں میں نااہلی اتنی پسند ہے کہ ہم انھیں اس کے بدلے نوازنے میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔یہ بھی پڑھیےمرد و خواتین کرکٹرز مساوی کیوں نہیں؟ فیس بک خواتین کو کاروبار سکھائے گینااہلی کی جیت کیوں ہوتی ہے؟ٹومس نے کہا کہ کاروبار یا سیاست میں رہنما کا انتخاب کرنا ایک بے حد ذمہ داری کا کام ہے۔ لیکن ہم لوگوں کو یہ دیکھے بغیر بھرتی کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے یا ملک کے لیے فائدہ مند بھی ہیں یا ان میں اس عہدے کے لیے قابلیت بھی ہے یا نہیں؟ انھوں نے بتایا کہ ’ہم فیصلہ تو کر لیتے ہیں لیکن وہ شخص رہنما کے طور پر کیسا کام کر رہا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمارے پاس ڈیٹا نہیں ہوتا۔ اور نتیجتاً بجائے یہ دیکھنے کے کہ اس میں ٹیم کی رہنمائی کی قابلیت بھی ہے یا نہیں ہم ان کے انداز وغیرہ سے متاثر ہو جاتے ہیں۔‘

کیا مسئلے کا حل خواتین کی بھرتی ہے؟ٹومس کہتے ہیں ’بالکل نہیں۔ حل یہ ہے کہ بھرتی کے دوران افراد کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر پرکھا جائے نہ کہ ان کے جنس کی بنیاد پر۔ ‘ٹومس نے کہا کہ ’اگر ہر ادارہ قابلیت کو اپنا مقصد بنا کر چلے تو اس میں خواتین رہنما زیادہ ہی نہیں بلکہ مردوں سے زیادہ ہوں گی۔‘یہ بھی پڑھیےانٹرنیٹ، خواتین اور بلیک میلنگخواتین مے نوشی میں مردوں کے برابرٹومس کا خیال ہے کہ ’خواتین اپنی جن خوبیوں کی وجہ سے مردوں سے بہتر کام کرتی ہیں وہ ہے ان کی عاجزی، سیکھنے کی صلاحیت، خود آگہی، لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ہنر اور ان کی قابلیت۔ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں خواتین مردوں سے بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}