نائیجر میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت، معاملہ کیا ہے؟

نائیجر میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت، معاملہ کیا ہے؟

October 24, 2017 - 09:47
Posted in:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے تازہ ترین تنازعے کا محور ان کا نائیجر میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کی بیوہ سے تعزیت کا انداز ہے۔ مائیشیا جانسن نے صدر ڈونلڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ صدر کو ان کے شوہر کا نام بھی یاد نہیں تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس سے الزام کو مسترد کیا ہے۔ سارجنٹ ڈیوڈ جانسن ان چار امریکی فوجیوں میں سے ایک تھے جو اس ماہ نائیجر میں ہلاک ہوئے۔ ان کی ہلاکتوں کے بارے میں اب تک ہم یہ جانتے ہیں:کیا ہوا؟چار اکتوبر جنوب مغربی نائیجر میں امریکی اور نائیجر کے فوجی مشترکہ گشت کر رہے تھے جبکہ ان پر فائرنگ کی گئی۔ امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل جوژف ڈنفورڈ کا کہنا ہے کہ حملہ شروع ہونے کے ایک گھنٹے تک فوجیوں نے مزید مدد نہیں مانگی تھی۔مدد مانگنے کے چند منٹ بعد ہی ایک ڈرون موقعے پر پہنچ گیا۔ مدد مانگنے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک فنس طیارہ بھی پہنچ گیا اور نائیجیریا کی فوج نے بھی امداد کی۔ فرانسیسی حکام نے زخمی افراد کو دارالحکومت نیامے منتقل کیا جہاں سے انھیں بعد میں جرمنی اور پھر امریکہ لے جایا گیا۔ جو ہلاک ہوگئے تھے انھیں ایک نجی کمپنی نے واپس امریکہ پہنچایا۔ عموماً اس طرح کے گراؤنڈ مشنز پر امریکہ کے پاس حملے کی صورت میں جوابی کارروائی یا اپنا دفاع کرنے کا ساز و سامان ہوتا ہے تاہم نائیجر میں امریکی فوجی حارحانہ کارروائی کے لیے تیار نہیں تھے۔اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ یہ فوجی کسی خطرناک مشن پر تھے ورنہ ان کی نفری زیادہ ہوتی۔ جنرل ڈنفورڈ کا کہنا کہ ہے فوجیوں کو ایسے حملے کی توقع نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس صرف رائفلز اور چھوٹے ہتھیار تھے۔سارجنٹ ڈیوڈ جانسن کے ساتھ کیا ہوا؟لڑائی کے دوران سارجنٹ ڈیوڈ جانسن اپنے ساتھیوں سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ فرانسیسی، امریکی اور نائیجر کے فوجی دو روز تک اس علاقے میں رہے جب تک ان کی لاش کا پتہ نہیں چل گیا۔

حملہ کس نے کیا؟اب تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اس علاقے کی سرحد مالی سے متصل ہے جہاں متعدد شدت پسند گروپ موجود ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ سے ہے۔ اس خطے میں کیے گئے حملوں کی ذمہ داری عموماً قبول نہیں کی جاتی۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کا مقامی ونگ (جس کے سربراہ کا نام ابو ولید السہروی ہے) اس حملے کا ذمہ دار ہے۔ تاہم اس حوالے سے دولت اسلامیہ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب جہادی تنظیمیں اکور امریکی یا مغربی فوجیوں کو ہلاک کرنے کو قابلِ فخر سمجھتی ہیں۔ امریکی فوجی نائیجر میں کر کیا رہے ہیں؟امریکہ کے 800 فوجی نائیجر میں تعینات ہیں جہاں وہ مقامی فورسز کو تربیت دیتے ہیں تاکہ انسدادِ دہشتگردی میں بہتری آئے۔ امریکہ ایسی ہی تربیت متعدد افریقی ممالک کو دیتا ہے۔ گذشتہ جمعرات کو امریکی فوج کے ڈائریکٹر جوائنٹ سٹاف لفٹیننٹ جنرل کینتھ مکنزی کا اصرار تھا کہ امریکہ نائیجر میں کسی مشن کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی نائیجر کی فوج کو براہِ راست کسی عسکری مشن میں مدد کر رہا تھا۔ کچھ امریکی فوجی خطے میں انٹیلیجنس آپریشن کے لیے ایک ہوائی اڈے کی تعمیر میں بھی کام کر رہے ہیں۔ کیا نائیجر میں امریکی موجودگی کی معلومات چھپائی جا رہی ہیں؟کچھ امریکی سیاستدانوں اور امریکی مقامی میڈیا کا خیال ہے کہ اس حوالے سے معلومات چھپائی جا رہی ہیں۔ مگر جون میں بھی امریکی کانگریس کو صدر ٹرمپ کی جانب سے بھیجے گئے ایک خط کیں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ نائیجر میں 625 امریکی فوجی انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کر رہے ہیں۔ مگر حال ہی میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہوں۔ ابھی بھی کون سے سوال باقی ہیں؟اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ کیوں ہوا اور کیسے ہوا ہے۔ امریکہ کی افریقہ کمانڈ کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اب تک کچھ ایسے سوالات ہیں کہ سارجنٹ ڈیوڈ جانسن اپنے ساتھیوں سے علیحدہ کیسے ہو گئے یا اس حملے کی بنیادی وجہ کیا تھا یا سارجنٹ جانسن کی لاش ڈھونڈنے میں اتنا وقت کیوں لگا۔ امریکہ کا اصرار ہپے کہ ان کے فوجی کسی مشن پر نہیں تھے مگر مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ ایک قریب گاؤں پر ہونے والے حملے کی جوابی کارروائی کر رہے تھے۔ ایسی اطلاعات سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہاں کے مقامی لوگ امریکی فوجی اپنے ملک میں چاہتے ہیں یا نہیں؟ کہیں انھوں نے جان بوجھ کر امریکیوں کو گھات لگا کر حملے کا نشانہ تو نہیں بنایا؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}