نائن الیون حملوں میں بچ جانے والا امریکی نیروبی حملے میں ہلاک

نائن الیون حملوں میں بچ جانے والا امریکی نیروبی حملے میں ہلاک

January 17, 2019 - 18:00
Posted in:

کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے لگژری ہوٹل میں دہشت گرد حملے کے دوران ہلاک ہونے والے 21افراد میں ایک امریکی بزنس مین بھی ہے جو نائن الیون کے حملوں میں بچ جانے والے افراد میں شامل تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق حکام نے باضابطہ طور پر جیسن اسپنڈلر کا نام ہلاک شدگان میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اُس کی والد سارہ اور بھائی جوناتھن نے فیس بک اور متعدد امریکی چینلز کو موت کی تصدیق کی ہے۔جوناتھن نے فیس بک اکاؤنٹ پر پیغام میں کہا ہے کہ ’’ میں افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ میرے بھائی جیسن اسپنڈلر کی نیروبی میں دہشت گرد حملے کے دوران موت ہوگئی ہے‘‘ پیغام میں مزید تحریر ہے کہ ’’جیسن 11ستمبر حملوں میں بچ جانے والوں میں شامل تھا‘‘ نیروبی حملوں کی ذمہ داری القاعدہ سے تعلق رکھنے والے صومالی گروپ الشباب نے قبول کی تھی، جو اکتوبر 2011ء میں فوج صومالیہ بھیجنے کے بعد سے کینیا کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔اسپنڈلر نے یونیورسٹی آف ٹیکساس۔آسٹن سے بزنس میں گریجویٹ اور نیویارک یونیورسٹی لاء اسکول سے ڈاکٹریٹ کیا تھا۔انہوں نے پیرو میں پیس کارپوریشن میں بھی وقت گزارا۔امریکا میں نائن الیون حملوں کے وقت اسپنڈلر ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ایک سرمایہ کاری بینک سولومون اسمتھ بارنے کے ساتھ کام کررہا تھا۔ٹوئن ٹاورزدہشت گردحملوں کے بعد زمین بوس ہوگئے تھےاور حملوں کے اسپنڈلر کی بلڈنگ سیون ورلڈ ٹریڈ سینٹر بھی منہدم ہوگئی تھی ۔اسپنڈلر کی والدہ سارہ کا کہنا ہے کہ ’’اُن کا بیٹا ایمرجنگ مارکیٹس کے لئے تیسری دنیا کے ممالک میں مثبت تبدیلیوں کی کوشش کررہا تھا‘‘والدہ کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہم اُسے بہت یاد کرتے ہیں، دہشت گردی نے ایسے روشن نوجوان کو ہم سے چھین لیا‘‘ اسپنڈلرز کے فیس بک اکاؤنٹ پر لوگ اُسے خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں۔بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}