نئی تکنیک سے حنوظ شدہ لاشوں پر لکھی تحریر پڑھنی ممکن

نئی تکنیک سے حنوظ شدہ لاشوں پر لکھی تحریر پڑھنی ممکن

January 01, 2018 - 03:27
Posted in:

لندن میں تحقیق دانوں نے سکیننگ تکنیک تیار کی ہے جس کے ذریعے پڑھا جا سکتا ہے کہ ان بکسوں پر کیا لکھا ہوتا ہے جن میں حنوط شدہ لاشیں دفن کی جاتی ہیں۔قدیم مصر میں حنوط شدہ لاشیں نرسل کی قسم کے پودے سے بنے ہوئے بکس میں بند کی جاتی تھیں۔ ان بکسوں کو بعد میں مقبروں میں رکھ دیا جاتا تھا۔ خوفو کا ہرم: ’جس کا اعلان کیا گیا ہے وہ دریافت نہیں ہے‘سعودی عرب میں ہزاروں سال قدیم ’دروازوں‘ کی دریافتیہ بکس نرسل کی قسم کے پودوں کی باقیات سے بنتے تھے اور اس کو قدیم مصر میں شاپنگ کی فہرست تیار کرنے اور ٹیکس جمع کرانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس تکنیک سے تاریخ دانوں کو قدیم مصر کی روز مرہ کی زندگی کے بارے میں مزید جاننے میں مدد مل رہی ہے۔ فرعون کے مقبروں کی دیواروں پر تصویری زبان یہ بات واضح کرتی ہے کہ کیسے امیر اور طاقتور اپنے آپ کو ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ یہ اس وقت کا پروپیگنڈا تھا۔ پراجیکٹ کے سربراہ یونیورسٹی کالج آف لندن کے پروفیسر ایڈم گبسن کا کہنا ہے کہ نئی سکیننگ تکنیک سے قدیم مصر کا مطالعہ کرنے والوں کو قدیم مصر کی اصل کہانی جاننے میں مدد ملے گی۔ ’کیونکہ نرسل کی قسم کے پودے کی باقیات استعمال کی گئی ہیں اس لیے یہ گذشتہ دو ہزار سال سے محفوظ ہیں۔ اس لیے یہ بکسے ایک لائبریری بن گئے ہیں۔ اور چونکہ یہ نرسل کی قسم کے پودے کی باقیات سے بنے ہوئے ہیں اس لیے محفوظ ہیں ورنہ ان کو کب کا پھانکا جا چکا ہوتا۔ ان بکسوں میں انفرادی شخص کے بارے میں معلومات ہیں اور ان کی زندگی کے بارے میں معلومات ہیں۔‘یہ بکسے 2000 سال پرانے ہیں۔ ان پر تحریر اکثر اس بکس کو جوڑنے کے لیے استعمال کیے گئے مخمور کے نیچے چھپ گئی ہیں۔ لیکن اب مختلف روشنیوں کا استعمال کرتے ہوئے سکیننگ سے اس تحریر کو پڑھا جا سکتا ہے۔ اس سکیننگ کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے پہلی کامیابی ا حنوط شدہ لاش کے بکس پر ہوئی جو کینٹ میں واقع چڈنگنگ سٹون قلعے میں رکھا ہوا ہے۔ تحقیق دانوں کو اس بکس پر لکھی ہوئی وہ تحریر ملی جو اس تکنیک کے بغیر نہیں دیکھا جا سکتی تھی۔ سکیننگ سے معلوم چلا کہ اس بکس پر ’Irethorru` تحریر ہوا ہے جس کا مطلب ہے ’قدیم مصری شمسی خدا کی آنکھ میرے دشمنوں کے خلاف ہے‘۔ اس تکنیک سے قبل ایسی تحریر کو پڑھنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہوتا تھا اور وہ تھا کہ بکس لگے مخمور کو ہٹایا جائے یعنی کے بکس کو توڑا جائے۔ اس سے مصر کا مطالعہ کرنے والے کشمکش میں مبتلا تھے۔ کیا بکس کو توڑا جائے؟ یا ان بکسوں کو جوں کا توں رہنے دیا جائے جس کا مطلب ہے کہ اس میں چھپی کہانیوں کو نہ پڑھا جائے؟لیکن اب اس سکیننگ تکنیک سے بکس کو توڑے بغیر تاریخ دان تحریر کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کالج آف لندن کی ڈاکٹر کیتھرین پکیٹ اب قدیم مصر کے بارے میں بہت کچھ جان سکیں گے۔ ’مجھے بہت افسوس ہوتا تھا جب تحریر پڑھنے کے لیے ان نوادارت کو توڑا جاتا تھا۔ یہ ایک جرم ہے۔ اب ہمارے پاس ایک ایسا طریقہ آ گیا ہے جس سے ہم ان نوادرات کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں اور ان پر لکھی تحریر بھی پڑھ سکتے ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}