مودی کو اب اپنی حکومت کا حساب دینا ہو گا

مودی کو اب اپنی حکومت کا حساب دینا ہو گا

March 17, 2018 - 12:52
Posted in:

پچھلے دنوں گورکھپور اور پھول پور کے ضمنی انتخابات بی جے پی کے لیے وارننگ سگنلز ہیں۔ گورکھپور نہ صرف وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا حلقہ ہے بلکہ وہ یہاں سے مسلسل پانچ بار انتخاب جیت چکے ہیں۔ لیکن اس بار بی جے پی کے امیدوار کو یہاں شکست کا سامنا ہوا۔ یہ شکست اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ ریاست کی دو سخت حریف جماعتیں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی ایک ساتھ آ گئیں۔سنہ 2104 کے انتخابات میں بی جے پی نے اتر پردیش کی 80 سیٹوں میں سے 73 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے میں یوپی اور بہار کا سب سے اہم رول تھا۔ لیکن یہ صورتحا ل بدلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ بہار کی ارریا سیٹ پر لالو پرشاد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل کامیاب ہوئی ہے۔ لالو یادو کرپشن کے جرم میں جیل میں ہیں اور پارٹی کی قیادت ان کے بیٹے تیجسوی یادو کے ہاتھ میں ہے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ یہ پارٹی اب انتشار کی دہلیز پر ہے اور تیجسوی کی قیادت میں اس کا جلد ہی خاتمہ ہو جائے گا۔یہ بھی پڑھیے٭ مودی سرکار: نعرے بہت مگر کارکردگی؟٭ مودی کا انقلاب جو نظر نہیں آتا اس کے بر عکس پارٹی نے حکمراں بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ کی تمام تر کوششوں کے باوجود نہ صرف ارریا کی سیٹ جیت لی بلکہ نوجوان تیجسوی سیاست میں اب پہلے سے زیادہ پختگی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ ارریا کی جیت سے یہ واضح ہے کہ راشٹریہ جنتا دل سنہ 2019 کے انتخابات میں بہار میں بی جے پی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو گی۔

ادھر اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھیلیش یادو نے دلت پارٹی، بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایاوتی سے ملاقات کی ہے۔ اکھیلیش نے کہا ہے کہ جس طرح دونوں جماعتوں نے گورکھپور اور پھولپور میں ساتھ مل کر انتخاب لڑا اسی طرح وہ اس اتحاد کو آگے بھی برقرار رکھیں گے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمانی انتخابات میں ان دونوں جماعتوں میں اتحاد ہو گیا تو بی جے پی اتر پردیش میں پچھلے انتخاب کے مقابلے کم از کم 50 نشستیں کھو دے گی۔ یعنی اسے 80 میں سے صرف 23 سیٹیں ملیں گی۔ یہ صورتحال وزیر اعظم مودی کے لیے کافی پریشان کن ہو سکتی ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے مودی نے ہر بر س کروڑوں ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن ختم کر دیں گے اور غیر ممالک کے بینکوں میں جمع اربوں ڈالر کا کالا دھن چند مہینے میں ملک واپس لائیں گے۔یہ بھی پڑھیےبی جے پی اپنے ہی گڑھ میں کمزور پڑ رہی ہے ’یا اللہ گجرات جتا دے‘ٹیکسوں میں اصلاح کی جائے گی۔ کسانوں کی آمدنی دگنی کر دی جائے گی۔ اس طرح کے بہت سے وعدے انھوں نے عوام سے کیے تھے۔ ان کی حکومت کے چار برس ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر وعدے پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ حکومت کے تئیں عوام میں بیزاری بڑھ رہی ہے۔آخری ایک برس وزیر اعظم مودی اور ان کی حکومت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ لیکن بچے ہوئے ایک برس میں وہ سب کچھ کر پانا جو وہ چار برس میں نہیں کر سکے ممکن نہیں ہے۔ مودی اور ان کے رفیق اور پارٹی صدر امت شاہ ابھی سے ہی سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔کئی ریاستوں میں پارٹی اور آر ایس ایس کے کارکن سرگرم ہیں۔ لیکن اگلے انتخاب میں مودی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پچھلی بار کی طرح وہ ہر ناکامی اور خرابی کے لیے کانگریس کی حکومت کو ذمے دار نہیں ٹھہرا سکیں گے۔ اس بار انھیں اپنی حکومت کا حساب کا دینا ہو گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}