موجودہ جوہری معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ایران

موجودہ جوہری معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ایران

April 30, 2018 - 10:01
Posted in:

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے بات چیت کی ہے اور انھیں جوہری مذاکرات میں شامل ہونے پر زور دیا ہے۔ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ سات عالمی طاقتوں کے ساتھ قائم موجودہ جوہری معاہدے پر ’سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘اس سے قبل فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اتفاق کیا تھا کہ موجودہ جوہری معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔تاہم انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹھائے جانے والے بعض خدشات کا تدارک بھی ضروری ہے۔صدر ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ وہ سنہ 2015 میں ہونے والے معاہدے میں شامل رہیں گے یا نہیں۔یہ بھی پڑھیے’ٹرمپ کو ایران جوہری معاہدہ ختم نہیں کرنے دیں گے‘امریکہ کا ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور ’ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنا تباہ کن ہوگا‘صدر ٹرمپ اس بین الاقوامی معاہدے کی سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’پاگل پن‘ قرار تھا۔ایران اور فرانس کے رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔ صدر میکخواں نے کہا کہ مذاکرات کو تین اضافی ناگزیر موضوعات کو شامل کرنے کے لیے وسیع کیا جائے جس میں سنہ 2025 میں اس معاہدے کے خاتمے کے بعد کی صورت حال پر مباحثہ، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں ایران کی شمولیت اور اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت شامل ہے۔

بہر حال صدر روحانی نے کہا کہ وہ فرانس کے ساتھ رشتے مضبوط کرنے کے لیے کام کریں گے اور 'تمام شعبے' میں تعاون کرنا چاہیں گے۔ایمینوئل میکخواں، برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اور جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل نے ہفتہ وار چھٹیوں پر علیحدہ علیحدہ فون کالز میں ایران کے ساتھ مجودہ معاہدے کی پابندی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ادھر نئے امریکی وزیر خارجہ مائک پوم پے او نے اتوار کو سعودی عرب کے اپنے پہلے دورے پر ان کے مطابق علاقے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}