ملی مسلم لیگ ’دہشت گرد تنظیموں کی فہرست‘ میں شامل

ملی مسلم لیگ ’دہشت گرد تنظیموں کی فہرست‘ میں شامل

April 03, 2018 - 10:04
Posted in:

امریکہ نے پچھلے سال ہی منظرعام پر آنے والی پاکستانی جماعت ملی مسلم لیگ کو انتہا پسند گروہ لشکر طیبہ کی جماعت قرار دیتے ہوئے 'دہشت گرد تنظیموں کی فہرست' میں شامل کردیا ہے۔ پیر کو امریکی وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ دونوں نے کہا کہ لشکرطیبہ کی طرح ملی ملسم لیگ کو بھی 'غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست اور 'عالمی دہشت گردوں کی خصوصی فہرست' میں دو مختلف قوانین کے تحت شامل کیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے دو ہزار ایک سے لشکر طیبہ کو ان فہرستوں میں شامل کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی سٹیٹ ڈیپارمنٹ نے تحریک آذادی کشمیر کو بھی لشکر طیبہ کا فرنٹ قرار دیتے ہوئے ان فہرستوں میں ڈالا ہے۔ جبکہ ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد، جنرل سکریڑی فیاض احمد اور پانچ مزید کارکنوں کے نام بھی ان فہرستوں میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے کوارڈینیٹر نتھن اے سیلز کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں لشکر طیبہ مسلسل کھلے عام گھوم رہی ہے اور عوامی ریلیاں منعقد کر رہی ہے۔ وہ چندہ اکھٹا کر رہے ہیں اور دہشت گرد حملے کرنے کی تربیت اور منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔' انہوں نے خبردار کرتے ہوے کہا 'غلطی مت کریں! لشکر یہ طیبہ جس مرضی نام سے خود کو پکارے ، یہ ایک پرتشدد دہشت گرد تنظیم ہی ہے۔ آج یہ اقدامات اس لیے کیےگئے ہیں تاکہ لشکر طیبہ کی پابندیوں سے بچنے اور اپناُ اصل روپ عوام سے چھپانے کی کوششوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔'مزید پڑھیےملی مسلم لیگ کو رجسٹر کرنے کی درخواست مستردملی مسلم لیگ کے نام سے جماعت الدعوۃ کی سیاسی جماعت’2018 میں مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہوگا‘وزارت خزانہ نے بھی تنبیہ کی کہ 'وہ لوگ جو ملی ملسم لیگ کی مدر کر رہے ہیں یا ان کو مالی چندہ دے رہے ہیں وہ بھی دو بار ایسے کرنے سے پہلے سوچیں یا پھر امریکی پابندیاں لگنے کا خطرہ مول لیں۔'ملی مسلم لیگ گز شتہ سال ہی وجود میں آئی ہے اور اس کے کارکنان کھلے عام حافظ سعید کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے اس جماعت کے جلسوں میں بھی حافظ سعید کے پوسٹر لہرائے گئے۔ امریکہ دو ہزار آٹھ کے ممبی حملوں کا ماسٹر مائینڈ لشکر طیبہ اور اس کے سربراہ حافظ سعید کو مانتا ہے۔ امریکہ نے حافظ سعید کے سر پر دس ملین ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ خیال رہے پاکستان الیکشن کمیشن نے ملی ملسم لیگ کو سیاسی جماعت ماننے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ امریکی وزارت حارجہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لیے لشکر طیبہ مسلسل اپنا نام بدلتی آئی ہے۔ ایک جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'دو ہزاز سترہ میں لشکر طیبہ ' تحریک آزادی کشمیر ' کے نام سے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہی۔ اگست دو ہزاز سترہ میں ہی لشکرطیبہ کے چیف حافظ سعید نے اپنی سیاسی جماعت ملی ملسم لیگ کی بنیاد رکھی۔ جس کے الیکشن بینرز اور انتخابی مہم کا مواد کھلے عام حافظ سعید کو پسند کرنے کا اقرار کر رہا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان باپند یوں کا مقصد ان لوگوں اور تنظیموں پر امریکی مالی نظام کے دروازے بند کرنا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ان تمام کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے جن کے تحت لشکرطیبہ کو تب تک سیاسی آواز نہ بننے دیا جائے جب تک وہ اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کے لیے تشدد کا استعمال بند نہ کرے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}