ملکۂ برطانیہ اور ان کے ہندوستانی دوست کی داستان

ملکۂ برطانیہ اور ان کے ہندوستانی دوست کی داستان

June 27, 2019 - 08:37
Posted in:

گذشتہ سال جب برطانوی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے اپنی شاہی رہائش گاہ قصرِ کنسنگٹن سے ونڈسر میں واقع فروگمور کاٹج منتقل ہونے کا اعلان کیا تو 19ویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا جانے والا یہ شاہی گھر، جو ایک زمانے میں افسانوی شہرت رکھتا تھا، ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا۔اپریل سنہ 2019 میں تین ملین پاؤنڈ کی لاگت سے ہونے والی تزئین و آرائش کے بعد جب شاہی جوڑا اس تاریخی گھر میں منتقل ہوا تو شاید اسے بھی نہیں معلوم تھا کہ سوا صدی قبل اسی گھر میں رہائش پذیر ایک شخص کم وبیش اسی طرح خبروں کی سُرخیوں کی زینت بنا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس شخص کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں بلکہ وہ ایک عام ہندوستانی تھا۔انھی دنوں ونڈسر سے پانچ ہزار میل دور کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ایک گھر میں چار پاکستانی فروگمور کاٹج کے اس ہندوستانی مکین سے اپنے خاص تعلق کو یاد کرنے جمع ہوئے۔ پروین بدر خان، مظہر سعید بیگ اور قمر سعید بیگ ان کے پڑنواسے جبکہ 90 سالہ سیّد اقبال حسین خاندانی دوست ہیں۔

منشی کا خاندان اب کہاں ہے؟منشی عبدالکریم کے پڑنواسے قمر سعید بیگ تاریخ کے صفحوں کو پلٹتے ہیں: ’تقسیمِ ہند کے وقت جب منشی عبدالکریم کے تقریباً پورے خاندان کو انڈیا سے بھاگنا پڑا تو اکثر دستاویزات، تصاویر اور نوادرات اِدھر اُدھر ہو گئے۔‘ تاہم سنہ 1887 سے سنہ 1897 تک کے دس سالوں کے دوران لکھی گئی منشی عبدالکریم کی ذاتی ڈائری اب بھی خاندان کے پاس محفوظ ہے۔ قمر سعید بیگ کی بہن پروین بدر خان بتاتی ہیں کہ آج منشی عبدالکریم کے پڑپوتے، پڑپوتیاں، پڑنواسے، پڑنواسیاں اور ان کی اولادیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے اکثر پاکستان، انڈیا، امریکہ، کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔ ’افسوس کہ ہمارے خاندان کی نئی نسل یعنی ہماری اولادوں کو خاندانی ورثے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 132 سال پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ اب ماضی کا حصہ ہے اور اس کا حال سے کوئی تعلق نہیں۔‘لیکن تاریخ سے منھ موڑنا کچھ اتنا آسان بھی نہیں شاید یہی وجہ ہے کہ جہاں ونڈسر میں منشی عبدالکریم کے فروگمور کاٹج کو برطانوی تخت کے چھٹے وارث شہزادہ ہیری نے اپنی رہائش گاہ بنانے کا فیصلہ کیا وہیں سکاٹ لینڈ کے بالمورل قلعے میں ’کریم کاٹج‘ آج بھی موجود ہے۔جس ملکہ نے سوا صدی پہلے اپنے وفادار ہندوستانی ملازم کے لیے کریم کاٹج بنایا اسی وکٹوریا کی لکڑ پوتی ایلزبتھ نے سنہ 2014 میں اس تاریخی گھر کو شاہی خاندان سے لے کر عوام کے حوالے کردیا۔اب ہر کوئی شاہی رہائش اختیار کرنے کا خواب پورا کر سکے گا اگر دل کرے اور آپ بھی ان در و دیوار کے ساتھ وقت گذارنا چاہیں جہاں کبھی ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم رہا کرتے تھے تو قصرِ بالمورل کی ویب سائٹ پر جائیں اور ہزار پاؤنڈ دے کر پورا گھر ہفتے بھر کے لیے کرائے پر لے لیں۔ کیا پتہ ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم کی روح آج بھی وہاں آتی ہو۔ منشی ملکہ کو اردو کا درس دیتے ہوں اور ہندوستان کی کہانیاں سناتے ہوں۔ ملکہ بھی کسی معصوم بچی کی طرح ان سے اپنے دل کی باتیں کرتی ہوں اور منشی کے حاسدوں کے سینے پر مونگ دلتی ہوں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}