مصر: نئے مقبروں کی دریافت، حنوط شدہ لاش کی نمائش

مصر: نئے مقبروں کی دریافت، حنوط شدہ لاش کی نمائش

December 10, 2017 - 01:50
Posted in:

مصر میں ماہرین آثار قدیمہ نے قدیم نیل کے شہر اقصر کی دو مقبرے جن پر پہلے تحقیق نہیں کی گئی تھی ان میں سے ایک سے ملنے والی حنوط شدہ لاش اور دیگر اشیا کو نمائش کے لیے رکھا ہے۔ اس حنوط شدہ لاش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مصر کی ’شاہی سلطنت‘ کے ایک سینییر اہلکار کی ممی ہے جو 3500 سال پرانی ہے۔ مصر: شاہی سنار کے مقبرے سے نئی حنوط شدہ لاشیں دریافت’سعودی عرب کے پراسرار دروازے اندازے سے کہیں زیادہ‘اس مقبرے سے ملنے والی دیگر اشیا میں لکڑی کا بنا ہوا چہرے کا ماسک، رنگین پینٹنگز اور مجسمے شامل ہیں۔ یہ دونوں مقبرے اقصر کے علاقے ذراع ابو النجا میں واقع ہیں۔ یہ علاقہ عبادت گاہوں اور مقبروں کے لیے مشہور ہے۔ یہ علاقہ وادی شہنشاہوں کے قریب ہے جہاں پر فرعون مصر دفن ہیں۔

حکام کا خیال ہے کہ امینن ہاٹ جو کہ سب سے طاقتور گاڈ امن کے دور میں ان کے سنار تھے کے مقبرے کی دریافت درا ابول ناگہ میں مزید دریافتوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو اس دور کے اعلیٰ حکام کے مقبروں اور قبرستانوں کے حوالے سے معروف ہے۔ آثار قدیمہ کے وزیر خالد الانانی کا کہنا ہے کہ 'ہم نے مقبرے کے اندر اور باہر تدفین سے متعلق بہت سے آلات دیکھے ہیں۔ ہم نے حنوط شدہ لاشوں، مخصوص تابوتوں، مردوں کے لیے کنگھیوں، ماسک، کچھ زیورات اور مجسموں کو دیکھا۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}