مشال خان مقدمے کے گواہوں پر دباؤ

مشال خان مقدمے کے گواہوں پر دباؤ

October 26, 2017 - 16:19
Posted in:

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی عبدالوالی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کے والد نے صوبائی حکومت کی جانب سے ان کے بیٹے کے عدالتی کیس کے اخراجات برداشت کرنے کے اعلان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔مشال خان کے والد اقبال خان نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا انھوں نے حکومت کو اپنے بیٹے کے عدالتی کیس کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے دو وکلا کے نام دیے تھے لیکن حکومت نے ایک وکیل کے اخراجات برداشت کرنے کی منظوری دی ہے۔اسی بارے میں مزید پڑھیےحکومت وکیل کرنے کے لیے مدد کرے، مشال خان کے والد کی اپیلمشال خان قتل کیس: 57 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئیمشال خان کے قاتل کا عدالتی بیان میں اپنے جرم کا اعترافمشال خان قتل: مرکزی ملزم گرفتار، تحقیقاتی ٹیم کی ازسر نو تشکیلانھوں نے کہا کہ گذشتہ روز وزیر اعلی سیکریٹریٹ کی جانب سے ان کو اس ضمن میں آگاہ کیا گیا تاہم وہ اس اعلان سے مطمئین نہیں ہیں۔' میرے ساتھ چھ وکلا پر مشتمل ٹیم فی سبیل اللہ ہری پور جیل جاتے ہیں جو آنے جانے کے تمام اخراجات خود برداشت کرتے ہیں اور ان میں اگر سب کو نہیں تو کم ازکم دو وکلا کو تو ان کا معاوضہ ملنا چاہیے جو ان کا حق بھی بنتا ہے۔یاد رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بدھ کو مشال خان قتل کیس کے تمام عدالتی اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کیا گیا تھا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے وکیل کے اخراجات کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے۔اقبال خان نے مزید کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان کے کچھ تحفظات بھی ہیں کیونکہ ملزمان کی جانب سے 25 وکلا پیش ہو رہے ہیں اس صورت حال میں ان کا ایک وکیل کیسے مقابلہ کر سکے گا؟

ہم نے قانون کا راستہ اختیار کیا ہے لیکن بعض سیاسی قوتیں جن کے وہ نام بھی جانتے ہیں وہ ہمیں قانونی جنگ لڑنے کے لیے بھی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔مشال خان کے والد, اقبال خان

انھوں نے کہا کہ مشال خان قتل کے بعد حکومت کی جانب سے ان سے جو وعدے کیے گئے تھے ان کو تاحال پورا نہیں کیا گیا جن میں شہید پیکج دینا اور مشال خان کے نام سے کسی یونیورسٹی کو منسوب کرنا شامل ہے۔ہری پور جیل میں جاری مشال خان قتل مقدمے کے ضمن میں بات کرتے ہوئے اقبال خان نے کہا کہ وہ اب تک ہونے والی عدالتی کارروائی سے مطمئین ہیں تاہم اس کیس میں ملزمان کے خاندانوں کی جانب سے پرائیوٹ گواہان پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ گواہان کو عدالت جاتے یا وہاں سے واپسی پر آتے ہوئے راستے میں روک کر ان کو ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ عدالت میں سچ نہ بولیں۔' ہم نے قانون کا راستہ اختیار کیا ہے لیکن بعض سیاسی قوتیں جن کے وہ نام بھی جانتے ہیں وہ ہمیں قانونی جنگ لڑنے کے لیے بھی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔'مشال خان قتل کیس میں اب تک 40 گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں جبکہ 10 سے 15 کے قریب مزید گواہوں کے بیانات لیے جائیں گے جن میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا شامل ہیں۔مردان پولیس کے مطابق اس مقدمے میں اب تک 57 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ چار ملزمان بدستور روپوش ہیں۔اقبال خان نے مزید کہا کہ مشال خان کے قتل کے بعد ان کے دو بیٹیوں کا تعلیمی سلسلہ خوف کی وجہ سے منقطع ہوگیا ہے اور اب وہ گھر میں پرائیوٹ تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان کی دونوں بیٹیاں کلاس میں اول پوزیشن حاصل کرتی تھیں لیکن بدقسمی سے اب انھیں گھر میں پڑھانے کی بجائے اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ باہر وہ محفوظ نہیں ہیں۔ان کے بقول اس ضمن میں حکومت کو درخواست دی گئی تھی کہ ان کی دونوں بیٹیوں کو تعلیم کی خاطر صوابی سے اسلام آباد منتقل کیا جائے لیکن ارباب اختیار کی جانب سے ان کو ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}