مزار کے باہر وردی میں رقص، خاتون پولیس اہلکار برطرف

مزار کے باہر وردی میں رقص، خاتون پولیس اہلکار برطرف

April 04, 2019 - 12:35
Posted in:

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر پاک پتن میں پولیس حکام نے صوفی بزرگ بابا فرید کے مزار کے باہر وردی میں رقص کرنے اور اس کی ویڈیو بنانے کی پاداش میں دو خواتین پولیس کانسٹیلز کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں خاتون اہلکاروں کی برطرفی قانون کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے اور اس ضمن میں چار مرتبہ تحقیقات کی گئیں اور قصوروار پائے جانے پر ان خواتین کو ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا۔جن لیڈی کانسٹیبلز کو ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا ہے ان میں ثنا تنویر اور امبرین شامل ہیں۔پولیس حکام کے مطابق ثنا تنویر صوفی بزرگ بابا فرید کے مزار کے باہر ڈیوٹی کے دوران یونیفارم میں رقص کر رہی تھیں جبکہ دوسری پولیس کانسٹیبل امبرین اس کی ویڈیو بنا رہی تھیں۔یہ بھی پڑھیےوائرل ویڈیو میں فلمی ڈائیلاگ بولنے پر پولیس اہلکار معطلنامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کانسٹیبل ثنا تنویر کی ویڈیو جنوری سنہ 2018 میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس سے پہلے کا ہے اور پولیس حکام نے اس کا نوٹس لینے کے بعد دونوں پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے لائن حاضر کردیا تھا۔پاک پتن پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کمال ناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ گریڈ 17 کے تین پولیس افسران پر مشتمل اس واقعہ سے متعلق چار ماہ تک تحقیقات کی تھیں جس میں ان دونوں خواتین پولیس اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے اور اُنھیں اپنے موقف پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تھا۔اُنھوں نے کہا کہ ثنا تنویر اور امبرین کو بابا فرید کے عرس کے موقع پر ان کے مزار کے باہر تعینات کیا گیا تھا تاکہ وہ وہاں آنے والی خواتین زائرین کی تلاشی لے سکیں۔

کمال ناصر کے بقول دونوں کا تعلق پاک پتن کے علاقے سے ہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ثنا تنویر کو سنہ 2017میں پنجاب پولیس میں بھرتی کیا گیا تھا اور اُنھیں ایسی جگہوں پر تعینات کیا جاتا تھا جہاں خواتین کی تقریبات ہوتی ہوں اور یا پھر کسی مظاہرے میں خواتین شریک ہوں۔اُنھوں نے کہا امبرین کو ثنا تنویر کی ڈانس کی ویڈیو بنانے کے الزام میں برطرف نہیں کیا گیا بلکہ اُنھیں خلاف قانون ایک اور کام کرنے کی پاداش میں نوکری سے برطرف کیا گیا ہے تاہم بارہا پوچھنے کے باجود پاک پتن پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کے انچارج نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔پاک پتن کی ضلعی پولیس افسر ماریہ محمود کا کہنا ہے کہ پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے اور ان دونوں خاتون پولیس اہلکاروں کی ان حرکتوں کی وجہ سے محکمے کا تشخص متاثر ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ محکمانہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔واضح رہے کہ ماریہ محمود کو رضوان گوندل کی جگہ ڈی پی او پاک پتن تعینات کیا گیا ہے۔ رضوان گوندل کو وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور ان کے بچوں کو بابا فرید کے مزار پر جانے سے روکنے کی پاداش میں تبدیل کیا گیا تھا۔ برطرف لیڈی کانسٹیبل ثنا تنویر سے رابطہ کیا گیا لیکن اُنھوں نے اس بارے میں کوئی موقف دینے سے گریز کیا۔قانونی ماہرین کے مطابق ان دونوں برطرف خاتون پولیس اہلکاروں کے پاس ڈی پی او کے اس حکم کے خلاف متعدد قانونی راستے موجود ہیں جن میں پنجاب پولیس کے سربراہ کے علاوہ سروسز ٹربیونل میں بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}