مریخ پر ’کیوروسٹی‘ کے دو ہزار دن

مریخ پر ’کیوروسٹی‘ کے دو ہزار دن

March 23, 2018 - 05:29
Posted in:

مریخ کی سائنس لیبارٹری کے نام سے معروف ناسا کا ’کیوروسٹی روور‘ کو مریخ پر دو ہزار دن ہو چکے ہیں۔ کیوروسٹی روور اس سرخ سیارے پر موجود ایک خشک جھیل کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس دوران روبوٹ نے کئی اہم مشاہدے کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ کیوروسٹی سائنس ٹیم نے منتخب کیے ہیں۔خلا سے لی گئی تصاویر میں سے کئی انتہائی دلکش ترین اور ڈرامائی خود زمین کی ہیں۔ مگر کیوروسٹی روور پر ماسٹ کیم کی اس تصویر میں رات کے وقت زمین ایک دھندلے نکتے کی طرح نظر آ رہی ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دان ہر روز کیوروسٹی کے ذریعے دس کروز میل دور مریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔کیوروسٹی نے پہلی تصویر پانچ اگست 2012 میں مریخ پر اترنے کے پندرہ منٹ بعد ہی بھیج دی تھی۔ جب یہ تصویر ملی تو سائنسدانوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ مشن کامیاب رہے گا۔

وقت کے ساتھ ساتھ کیوروسٹی روور نے سیلفی لینے میں مہارت حاصل کر لی یہ سیلفیاں صرف دکھانے کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان سے ٹیم کو پورے مشن میں روور کی مجموعی حالت سے آگاہ کرتی رہتی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}