ماتا ہری، دنیا کی مشہور ترین جاسوسہ

ماتا ہری، دنیا کی مشہور ترین جاسوسہ

October 15, 2017 - 12:03
Posted in:

آج سے ٹھیک سو سال پہلے 15 اکتوبر 1917 کی صبح ایک سلیٹی رنگ کی فوجی گاڑی پیرس کی مرکزی جیل سے نکلی۔ اس پر ایک 41 سالہ ولندیزی خاتون سوار تھیں جنھوں نے ایک لمبا کوٹ پہن رکھا تھا اور ان کے سر پر چوڑا ہیٹ تھا۔ ایک عشرہ قبل اس خاتون نے یورپ کے دارالحکومتوں کو اپنے قدموں پر جھکا رکھا تھا۔ یہ وہ شعلۂ جوالہ تھی جو رقص میں بےبدل تھی اور اس کے چاہنے والوں میں وزیر، صنعت کار اور جنرل شامل تھے۔ لیکن پھر پہلی جنگِ عظیم چھڑ گئی، جس نے دنیا کو بدل کے رکھ دیا۔ اس کا اب بھی خیال تھا کہ وہ یورپ بھر کی آنکھیں اپنے جلووں سے خیرہ کر سکتی ہے۔ لیکن اب اونچے ایوانوں میں بیٹھے مرد اس سے کچھ اور چاہتے تھے۔ انھیں اب انھیں اس خاتون کا التفات نہیں، معلومات درکار تھیں۔یہ ماتا ہری تھیں اور انھیں آج موت کے گھاٹ اتارا جانا تھا۔ ان کا جرم؟ الزام تھا کہ وہ جاسوسہ ہیں جو اتحادی افسروں کو لبھا کر ان سے راز حاصل کر کے جرمنوں فوج کے حوالے کر دیتی ہیں۔ اخبار مرچ مسالے لگا کر خبریں چھاپتے تھے کہ ان کی وجہ سے ہزاروں اتحادی فوجی مارے گئے ہیں۔ لیکن عدالت میں جو شواہد پیش کیے گئے ان سے کچھ اور کہانی ابھر کر سامنے آئی۔ وہ اصل میں ڈبل ایجنٹ تھیں اور انھیں قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا۔ اب ایک سو سال بعد فرانسیسی وزارتِ دفاع نے کچھ ایسی دستاویزات جاری کی ہیں جن سے دنیا کی تاریخ کی اس مشہور ترین جاسوسہ کے بارے میں نئے انکشافات ہوئے ہیں جو اس سے پہلے دنیا کی آنکھ سے اوجھل تھے۔ان میں 1917 میں ماتا ہری سے ہونے والی پوچھ گچھ کی دستاویزات بھی شامل ہیں۔ ان میں کچھ کو نیدرلینڈز میں ماتا ہری کے آبائی شہر لیووارڈن کے فرائز میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ماتا ہری نے آنکھوں پر پٹی بندھوانے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے ایک ہاتھ ہلا کر اپنے وکیل کو خدا حافظ کہا۔ کمانڈر نے اپنی تلوار تیزی سے نیچے جھکائی، 12 رائفلوں کی صدا فضا میں گونجی اور ماتا ہری اپنے ہی قدموں پر گر پڑیں۔ ماتا ہری کی نعش قبول کرنے کوئی نہیں آیا۔ اسے پیرس کے ایک میڈیکل کالج کے حوالے کر دیا گیا جہاں اسے طلبہ کو علم الابدان سکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ ان کا سر میوزیم آف اناٹومی میں محفوظ کر دیا گیا۔ تاہم 20 سال قبل یہ وہاں سے غائب ہو گیا۔ کسی نے اسے چرا لیا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}